پہلی بات یہ ہے کہ یہ رینکنگ میں نے نہیں بنائی۔ یہ ایک مشہور ویب سائٹ نے بڑی جانفشانی سے محنت کر کے بنائی ہے جس کا پتہ ٹاپ یونیورسٹیز ڈاٹ کام ہے۔ اس کی رینکنگ کو QS International رینکنگ کہتے ہیں۔ اور یہ درجہ بندی پوری دنیا میں کافی مانی جاتی ہے۔
جب 18 جون 2026 کو QS International نے دنیا کی بہترین یونیورسٹیوں کی رینکنگ جاری کی تو اس میں 18 پاکستانی یونیورسٹیاں بھی شامل تھیں۔ آج ان میں سے ہم دس بہترین یونیورسٹیوں کے بارے میں اس آرٹیکل میں بات کریں گے، کہ یہ کونسی ہیں اور وہ کونسی وجوہات ہیں کہ یہ بہترین یونیورسٹیوں کی فہرست میں شامل کی گئی ہیں۔
مزے کی بات یہ ہے کہ دسویں نمبر پر 3 یونیورسٹیاں اکٹھی موجود ہیں۔ اس لیے ہماری ٹاپ 10 کی فہرست میں 12 یونیورسٹیاں شامل ہوں گی۔
اس فہرست میں قائد اعظم یونیورسٹی پہلے نمبر پر اس لیے آئی ہے کہ اس کا تحقیقی کام بہت زیادہ نمایاں ہوا ہے۔ یہاں کے تحقیقی حوالہ جات پوری دنیا میں باقی تمام پاکستانی یونیورسٹیوں سے زیادہ استعمال ہوئے ہیں۔
لیکن نسٹ یونیورسٹی صرف تین نمبر کم ہونے کی وجہ سے دوسرے نمبر پر ہے، یعنی کہ مقابلہ انتہائی سخت ہے۔ اور کسی بھی وقت نسٹ پہلے نمبر پر آ سکتی ہے۔ نسٹ کی اچھی رینکنگ کی اہم وجہ اس کی کمپنیوں میں اچھی ریپوٹیشن ہے، جس کے اسے سب سے زیادہ پوائنٹ ملے ہیں۔
زیادہ حیرت پیاس یونیورسٹی پر ہوتی ہے کہ انتہائی چھوٹی سی اور حد درجہ فوکسڈ ہونے کے باوجود اس نے پاکستان میں تیسری سب سے بہترین یونیورسٹی کا اعزاز حاصل کر لیا۔ اور پچھلے سال کی نسبت اس نے ایک ہی چھلانگ میں 160 درجے ترقی حاصل کر کے انٹرنیشنل رینکنگ میں 721 پوزیشن سے بڑھ کر 560 نمبر پر آگئی۔ کمال ہے۔ اس میں بھی اہم کردار اس بات کا رہا ہے کہ پیاس یونیورسٹی کی ہوئی تحقیق دنیا میں کافی دوسرے سائنسدانوں نے استعمال کی۔ اس کے علاوہ ہر کلاس طالب علموں سے بھرا ہونے پر بھی کافی پوائنٹ ملے۔ اور اس کے برسر روزگار گریجویٹس میں بھی کافی اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔
چوتھے نمبر پر آنے والی پنجاب یونیورسٹی کی خاص وجہ اس کا جغرافیائی حجم نہیں بلکہ اس کا وسیع نیٹ ورک ہے، جو فارغ التحصیل طلباء کا بنایا ہوا ہے اور وہ نئے تعلیم یافتہ افراد کو اپنے اداروں میں بھرتی کرنے میں مدد فراہم کرتے ہیں۔ یہ بات رینکنگ میں بہت اہمیت رکھتی ہے کہ کسی تعلیمی ادارے سے پڑھے افراد کو نوکریاں کتنی جلدی اور کتنی اچھی ملتی ہیں۔
پانچویں نمبر پر لاہور یونیورسٹی آف مینجمنٹ سائنسز المشہور لمز یونیورسٹی ہے۔ ماڈرن کیمپس ہے اور مینجمنٹ کی فیلڈ میں بہت اچھا نام ہے اس کا۔ اس یونیورسٹی سے پڑھے لکھے لوگ بھی بڑی کمپنیوں کو بہت پسند ہیں اور اسی لیے اس کی اچھی رینکنگ بنی ہے۔
آئیں اب پوری لسٹ کو دیکھ لیتے ہیں۔
پاکستان کی ٹاپ 10 یونیورسٹیاں
عالمی درجہ بندی، شہر اور نمایاں شعبہ — سب ایک نظر میں
ہر کارڈ پر کلک کرکے نمایاں شعبے دیکھیں۔ دسویں پوزیشن تین جامعات کی مشترکہ ہے۔
ڈیٹا کا بنیادی ماخذ: QS World University Rankings 2027 — Pakistan
فیصل آباد کی زرعی یونیورسٹی ڈھائی ہزار ایکڑ پر پھیلی ہوئی ہے اور رقبے کے لحاظ سے پاکستان کی سب سے بڑی یونیورسٹی ہے۔ اس انٹرنیشنل رپورٹ میں اس نے پورے پاکستان میں چھٹی پوزیشن حاصل کی ہے۔ اور اس کی اہم خصوصیات زرعی تحقیق اور حوالہ جات ہیں، قائد اعظم یونیورسٹی کے بعد تحقیقی حوالہ جات کا سب سے بڑا اسکور زرعی یونیورسٹی فیصل آباد نے حاصل کیا۔
ساتویں نمبر پر کامسیٹس یونیورسٹی ہے، یہ اہم مقام حاصل کرنے میں بنیادی کردار اس کی انٹرنیشنل ریسرچ نیٹ ورک نے ادا کیا ہے۔ یعنی اس کے تحقیقی مقالہ جات لکھنے میں کئی دوسرے ملکوں کے طلباء کے ساتھ مل کر لکھے جاتے ہیں اور کامسیٹس یونیورسٹی نے اس حوالے سے پورے پاکستان میں باقی سب یونیورسٹیوں سے زیادہ پوائنٹ لیے ہیں۔
آٹھویں نمبر پر جی سی یونیورسٹی ہے لیکن یہ لاہور والی نہیں، بلکہ لاہور سے ڈیڑھ سو کلومیٹر دور فیصل آباد کی جی سی یونیورسٹی ہے۔ یہ بھی پچھلے سال کی 761 پوزیشن سے 70 قدم بڑھ کر اب 691 نمبر پر آ گئی صرف ایک ہی سال میں۔ اس ترقی میں دو چیزوں نے مل کر اہم کردار ادا کیا: ایک اس یونیورسٹی کا اچھا انٹرنیشنل ریسرچ نیٹ ورک، جو کامسیٹس یونیورسٹی سے صرف 6 پوائنٹس کم ہے، اور دوسرا اس کے محققین کے کام کا بین الاقوامی سطح پر کافی زیادہ استعمال (جو قائد اعظم یونیورسٹی، پیاس یونیورسٹی اور زرعی یونیورسٹی کے بعد چوتھے نمبر پر رہا)۔
یو ای ٹی لاہور نے نواں نمبر لے کر ٹاپ ٹین میں جگہ بنائی ہے، جس میں اہم کردار صنعت میں اس کا نام مشہور ہونا ہے، اس کے علاوہ اس کے گریجویٹس کو نوکریاں بھی اچھی ملی ہیں (پنجاب یونیورسٹی اور لمز یونیورسٹی کے بعد)، اس کے علاوہ اس کا پائیداری (sustainability) اور انٹرنیشنل ریسرچ نیٹ ورک کا اسکور بھی اچھا رہا ہے۔
دسویں نمبر پر تین یونیورسٹیاں اکٹھی آئی ہیں، یعنی آغا خان یونیورسٹی، یونیورسٹی آف لاہور اور پشاور یونیورسٹی۔
اگر آپ اس بات میں دلچسپی رکھتے ہیں کہ کونسے عوامل کی وجہ سے ان تعلیمی اداروں کو یہ مقام ملا، تو آگے آنے والا ٹول آپ کو یہ بتائے گا کہ کس کس فیکٹر میں ان یونیورسٹیوں نے کتنے کتنے نمبر حاصل کیے۔ زیادہ نمبر کا مطلب ہے زیادہ اچھی بات ہے اور اس یونیورسٹی کو بہتر رینک ملے گا۔
ہر یونیورسٹی کی اصل طاقت کہاں ہے؟
کسی ایک پیمانے کو منتخب کریں۔ تمام جامعات اسی QS اسکور کے مطابق دوبارہ ترتیب پائیں گی۔
فی فیکلٹی تحقیقی حوالہ جات
ادارے کے حجم کو سامنے رکھتے ہوئے تحقیق کے استعمال اور اثر کی ایک علامت۔
اس اسکور بورڈ میں ہم دیکھ سکتے ہیں کہ وہ کونسے عوامل ہیں جن میں ہر یونیورسٹی کو اچھے نمبر ملے ہیں، زیادہ نمبر کا مطلب ہے زیادہ پوائنٹس اور بہتر جگہ کا مطلب ہے کہ اس معاملے میں اچھے نمبر ہیں۔
یہاں دیکھیں کہ اساتذہ کے حوالہ جات کی مد میں قائد اعظم یونیورسٹی نے 100 میں سے 97 نمبر حاصل کیے، یہ ایک بہت بڑی بات ہے۔ اسی طرح آغا خان یونیورسٹی نے اپنی بہترین فیکلٹی ریشو کی وجہ سے 100 میں سے 100 نمبر حاصل کیے۔
ان رینکنگ پر طالب علم اور یونیورسٹیاں بہت باریک بینی سے نظر رکھتی ہیں۔ اس سال جب 18 جون 2026 کو انٹرنیشنل رینکنگ جاری ہوئی تو پیاس یونیورسٹی نے رینکنگ جاری ہوتے ہی فیس بک پر ایک پوسٹ کی اور تیسری پوزیشن حاصل کرنے پر خوشی کا اظہار کیا۔ جس رفتار سے اس کی درجہ بندی میں بہتری آرہی ہے ہم امید کر سکتے ہیں کہ پہلے کی طرح یہ دوبارہ دنیا کی 400 بہترین یونیورسٹیوں اور پاکستان کی پہلی بہترین یونیورسٹی کی حق دار قرار پائے۔
سبجیکٹ کے حساب سے بہترین یونیورسٹیاں
اس سے پہلے ہم نے جو درجہ بندی دیکھی تھی وہ اوور آل تھی، یعنی مجموعی طور پر اس یونیورسٹی کے سارے ڈیپارٹمنٹس کو ملا کر جو اسکور ملا تھا اس کی بنیاد پر تھی۔
مگر ایسا بہت ممکن ہے کہ ایک یونیورسٹی کا کوئی ایک خاص ڈیپارٹمنٹ بہت اچھا ہو اور وہ یونیورسٹی اس ڈیپارٹمنٹ کی وجہ سے آپ کے لیے بہتر انتخاب ہو۔ مثلاً لمز یونیورسٹی مینجمنٹ سائنسز کے مضمون کے حوالے سے پاکستان کی سب سے بہتر یونیورسٹی سمجھی جاتی ہے، اگرچہ وہ مجموعی طور پر پہلی پوزیشن پر نہیں آئی۔
اب ہم یہ دیکھنے لگے ہیں کہ چھ اہم مضامین میں سے ان ٹاپ ٹین یونیورسٹیوں کی درجہ بندی کیا ہے۔
اس میں بہت انٹرسٹنگ باتیں ملیں گی۔ جیسے کہ قائد اعظم یونیورسٹی ویسے تو مجموعی طور پر پاکستان کی سب سے بہترین یونیورسٹی ابھر کر سامنے آئی ہے مگر اگر آپ بزنس اور مینجمنٹ پڑھنا چاہتے ہیں تو آپ کے پاس اس سے بھی 6 اور تعلیمی ادارے موجود ہیں۔
اسی طرح کامسیٹس یونیورسٹی کا اوور آل رینک اگرچہ QS International کی رینکنگ کے مطابق ساتواں ہے، مگر یہی QS International کہتا ہے کہ اگر آپ ریاضی پڑھنا چاہتے ہیں تو پھر کامسیٹس آپ کے لیے پہلے نمبر پر ہونا چاہیے۔
جی ہاں، یہ مضمون پر مبنی رینکنگ بھی اسی ادارے نے بنائی ہے، الگ سے، جس نے اوور آل مجموعی رینکنگ بنائی ہے۔
مضمون بدلیں، بہترین یونیورسٹی بھی بدل سکتی ہے
چھ منتخب شعبوں میں پاکستانی اداروں کی ترتیب دیکھیں۔ مجموعی رینک اور مضمون کی رینک ایک ہی چیز نہیں۔
کمپیوٹر سائنس
- 1TOP 1
نیشنل یونیورسٹی آف سائنسز اینڈ ٹیکنالوجی
NUST · مجموعی پاکستانی پوزیشن 2
- 2TOP 2
کامسیٹس یونیورسٹی اسلام آباد
COMSATS · مجموعی پاکستانی پوزیشن 7
- 3TOP 3
یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی لاہور
UET · مجموعی پاکستانی پوزیشن 9
- 4
پنجاب یونیورسٹی
PU · مجموعی پاکستانی پوزیشن 4
- 5
لاہور یونیورسٹی آف مینجمنٹ سائنسز
LUMS · مجموعی پاکستانی پوزیشن 5
- 6
قائداعظم یونیورسٹی
QAU · مجموعی پاکستانی پوزیشن 1
- 7
یونیورسٹی آف لاہور
UOL · مجموعی پاکستانی پوزیشن 10
- 8
بحریہ یونیورسٹی
Bahria · مجموعی پہلی 10 پوزیشنز سے باہر
- 9
غلام اسحاق خان انسٹی ٹیوٹ
GIK · مجموعی پہلی 10 پوزیشنز سے باہر
- 10
ایئر یونیورسٹی
Air · مجموعی پہلی 10 پوزیشنز سے باہر
یہاں آپ دیکھ رہے ہیں کہ ابتدائی ٹاپ ٹین یونیورسٹیز آف پاکستان میں جو 12 ادارے آ رہے تھے ان کے علاوہ 6 مزید اس فہرست میں شامل کیے گئے ہیں، کیونکہ مجموعی طور پر 18 یونیورسٹیوں کو QS International نے اپنی مجموعی رینکنگ میں شامل کیا تھا۔
اس کے علاوہ بھی مزید 5 یونیورسٹیوں کے نام آپ کو یہاں نظر آ رہے ہوں گے، اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ ادارے اگرچہ مجموعی رینکنگ میں تو ٹاپ ٹین میں نہیں آتے تھے مگر ان کے کچھ ڈیپارٹمنٹ پاکستان کے دس بہترین ڈیپارٹمنٹس میں شامل تھے۔ اس لیے ان کو بھی ان کے متعلقہ بہترین مضمون کے خانے میں شامل کیا گیا ہے۔
اہم بات یہ ہے کہ جو ادارے مجموعی طور پر بہترین ہیں، ان کی مختلف مضامین میں بھی اچھی نمبرنگ آئی ہے۔ اور جو باقی ادارے ہیں وہ کسی کسی ایک مضمون میں کچھ نہ کچھ برتری رکھتے ہیں۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ کچھ یونیورسٹیاں مجموعی رینکنگ میں تو آئی ہیں مگر ان چھ مضامین میں سے کسی میں بھی دس بہترین میں نہیں آتیں، مثلاً پیاس یونیورسٹی، زرعی یونیورسٹی فیصل آباد، آغا خان یونیورسٹی کراچی، اور بہاؤ الدین زکریا یونیورسٹی کی ان چھ مضامین میں سے کوئی بھی دس بہترین میں شامل نہیں ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ یونیورسٹیاں بہت مخصوص مضامین میں سپیشلائزڈ ہیں جو اس فہرست میں کوَر نہیں کیے گئے۔
اوپر ہم نے صرف چھ مختلف مضامین کی دس بہترین یونیورسٹیوں کی فہرست بنائی ہے مگر ان مضامین کے علاوہ بھی اور بھی مضامین ہیں جن پر ایک اور فہرست بن سکتی ہے۔
فیس، داخلہ اور انتخاب
اب ہم نے دیکھنا ہے کہ ان بہترین یونیورسٹیوں کی فیس کتنی بہترین ہے۔
اگر آپ کم خرچ والی یونیورسٹیاں دیکھ رہے ہیں تو اس میں پنجاب یونیورسٹی، قائد اعظم یونیورسٹی اور پیاس یونیورسٹی سر فہرست ہیں۔ اور بہت زیادہ فیس والی یونیورسٹیوں میں آغا خان یونیورسٹی اور لاہور یونیورسٹی آف مینجمنٹ سائنسز آتی ہیں۔
اہم بات یہ ہے کہ آپ نے فیس کو اپنے فیصلے کی اصل بنیاد نہیں بنانا۔ مہنگے ادارے کا مطلب اچھی پڑھائی اور سستی تعلیم کا مطلب وقت کا ضیاع نہیں ہے۔ فیس کتنی رکھنی ہے اس میں بہت سے عوامل ایسے بھی ہوتے ہیں جن کا براہ راست پڑھائی سے تعلق نہیں ہوتا۔
صرف ایک عدد دیکھ کر فیس کا فیصلہ نہ کریں
ہر رقم ایک مخصوص پروگرام اور مدت کی مثال ہے۔ داخلہ، سکیورٹی، ہاسٹل اور دوسرے charges الگ ہوسکتے ہیں۔
قائداعظم یونیورسٹی
QS 381
داخلے سمیت پہلی ادائیگی 106,530 روپے؛ پراسیسنگ فیس الگ۔
داخلہ: تعلیمی میرٹ؛ پروگرام کی تازہ اہلیت داخلہ نوٹس میں دیکھیں۔
نیشنل یونیورسٹی آف سائنسز اینڈ ٹیکنالوجی
QS 384
متفرق اخراجات الگ؛ داخلہ اور سکیورٹی سمیت پہلی ادائیگی زیادہ ہوگی۔
داخلہ: NET، HSSC اور SSC کے مقررہ وزن سے میرٹ بنتا ہے۔
پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف انجینئرنگ اینڈ اپلائیڈ سائنسز
QS 560
خدمات اور یک وقتی اخراجات الگ ہیں؛ مکمل challan دیکھیں۔
داخلہ: تحریری ٹیسٹ، HSSC Part-I اور SSC سے انتخاب۔
پنجاب یونیورسٹی
QS 588
سروس، امتحان، رجسٹریشن اور سکیورٹی سمیت پہلی ادائیگی زیادہ ہے۔
داخلہ: میرٹ اور داخلہ ٹیسٹ کا وزن پروگرام کے مطابق بدلتا ہے۔
لاہور یونیورسٹی آف مینجمنٹ سائنسز
QS 608
دیگر لازمی charges اور ہاسٹل الگ ہیں۔
داخلہ: SAT/ACT یا LCAT، تعلیمی ریکارڈ اور مکمل درخواست۔
یونیورسٹی آف ایگریکلچر فیصل آباد
QS 629
فیس کو مستقل عدد نہ سمجھیں؛ جاری کردہ challan حتمی ہے۔
داخلہ: پروگرام کی اہلیت اور میرٹ تازہ پراسپیکٹس کے مطابق۔
کامسیٹس یونیورسٹی اسلام آباد
QS 639
داخلہ فیس الگ؛ کیمپس اور پروگرام بدلنے سے رقم بدل سکتی ہے۔
داخلہ: NTS NAT یا متعلقہ ٹیسٹ؛ campus اور programme merit اہم ہے۔
گورنمنٹ کالج یونیورسٹی فیصل آباد
QS 691
تازہ session کی رقم داخلہ پورٹل یا جاری کردہ challan سے لیں۔
داخلہ: department، eligibility اور programme merit کے مطابق۔
یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی لاہور
QS 791–800
ہاسٹل اور دیگر ذاتی اخراجات الگ ہیں۔
داخلہ: ECAT، تعلیمی میرٹ، domicile اور programme eligibility۔
آغا خان یونیورسٹی
QS 951–1000
یہ Bachelor of Studies ہے، MBBS نہیں؛ دیگر charges الگ ہیں۔
داخلہ: ہر programme کے tests اور interviews الگ ہوسکتے ہیں۔
یونیورسٹی آف لاہور
QS 951–1000
20,000 روپے one-time registration؛ پورے پروگرام کی موجودہ مجموعی فیس 1,900,600 روپے۔
داخلہ: UOL کے موجودہ admission guide اور programme requirements دیکھیں۔
یونیورسٹی آف پشاور
QS 951–1000
تازہ programme page اور جاری کردہ challan حتمی سمجھیں۔
داخلہ: programme eligibility اور merit تازہ داخلہ نوٹس کے مطابق۔
یہاں جو معلومات دی گئی ہیں یہ بنیادی رہنمائی کے لیے ہیں اور یونیورسٹی کے بیچلرز ڈگری پروگرام کی فیس دی گئی ہے۔ مگر اصل فیس اس سے مختلف بھی ہو سکتی ہے جس میں دوسرے چارجز بھی شامل ہوں گے۔
بہت سی یونیورسٹیاں اسکالرشپ بھی دیتی ہیں، جن سے آپ کا خرچ بہت کم رہ جاتا ہے۔ ان اسکالرشپس کی تفصیل کسی دوسرے آرٹیکل میں شامل کی جائے گی۔
تازہ ترین فیس اور اسکالرشپ کی معلومات کے لیے آپ متعلقہ یونیورسٹی کی ویب سائٹ سے رجوع کر سکتے ہیں۔
داخلہ کی ٹائم لائن
بہت سارے طالب علم سمجھتے ہیں کہ انٹرمیڈیٹ کا رزلٹ آئے گا تو پھر داخلے شروع ہوں گے۔ اس غلط فہمی کی وجہ سے کافی طالب علم اپنا قیمتی وقت ضائع کر بیٹھتے ہیں۔ انٹرمیڈیٹ کے امتحان سے فارغ ہوتے ہی آپ کو فوراً داخلے کے لیے متحرک ہو جانا چاہیے۔
ذیل میں داخلے کی ٹائم لائن دی گئی ہے۔
انٹرمیڈیٹ کے نتیجے سے پہلے تیاری شروع کریں
یہ قطعی deadlines نہیں بلکہ planning windows ہیں۔ ہر یونیورسٹی کی اصل تاریخ اس کے سرکاری admission notice سے چیک کریں۔
ٹیسٹ یا مکمل application profile مانگنے والے اداروں کے لیے کئی ماہ پہلے تیاری شروع کریں۔
ٹیسٹ اور پروفائل
NUST، LUMS اور دوسرے test-heavy options کی تیاری۔
رجسٹریشن اور درخواست
دستاویزات، essays، مالی معاونت اور test bookings۔
نتیجہ، ترجیحات اور فیس
offer اور merit list پر مقررہ وقت میں عمل۔
صحیح یونیورسٹی کا انتخاب کیسے کریں؟
ٹاپ یونیورسٹیوں کی فہرست دیکھنا آسان ہے۔ مشکل کام یہ فیصلہ کرنا ہے کہ ان میں سے آپ کے لیے درست یونیورسٹی کون سی ہے۔
QS کی مجموعی رینکنگ ہمیں ایک مضبوط نقطۂ آغاز دیتی ہے۔ اس سے جامعہ کی علمی شہرت، تحقیق، عالمی روابط اور فارغ التحصیل طلبہ کی پیشہ ورانہ شناخت کا اندازہ ہوتا ہے۔ لیکن یہ رینکنگ آپ کے گھر کا بجٹ، مطلوبہ شعبہ، رہائشی شہر، روزانہ کا سفر اور ذاتی تعلیمی انداز نہیں جانتی۔
آپ یونیورسٹی کا نام، رینکنگ، ڈیپارٹمنٹ کی رینکنگ، فیس، اپنی ترجیحات، ہاسٹل، فاصلہ، وغیرہ سب دیکھ کر فیصلہ کریں۔
یہاں ہم نے ایک چھوٹا سا ٹول بنایا ہے جو آپ کو ابتدائی فہرست منتخب کرنے میں مدد دے گا۔ اس میں آپ اپنی ترجیحات پر کلک کریں اور پھر دیکھیں کہ ان بہترین یونیورسٹیوں میں سے آپ کے لیے بہترین کون سی ہے۔
اپنی ابتدائی shortlist خود بنائیں
صرف تین چیزیں منتخب کریں۔ نتیجہ آپ کو تحقیق کے لیے تین ابتدائی options دے گا—حتمی داخلہ فیصلہ نہیں۔
کمپیوٹر سائنس · درمیانی · آجر کی رائے
- 1NUST · اسلام آباد90%ابتدائی fit
نیشنل یونیورسٹی آف سائنسز اینڈ ٹیکنالوجی
مضمون میں پاکستان نمبر 1 · منتخب QS پیمانے پر 70
- 2COMSATS · اسلام آباد77%ابتدائی fit
کامسیٹس یونیورسٹی اسلام آباد
مضمون میں پاکستان نمبر 2 · منتخب QS پیمانے پر 35
- 3UET · لاہور75%ابتدائی fit
یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی لاہور
مضمون میں پاکستان نمبر 3 · منتخب QS پیمانے پر 48
اب ان تین options کی اصل programme fee، داخلہ اہلیت، ہاسٹل اور سفر الگ سے چیک کریں۔ یہ اس مضمون کے محدود QS data پر مبنی شفاف shortlist ہے، ضمانت نہیں۔

درست یونیورسٹی، مضبوط مستقبل - مزید تعلیمی اور کیریئر رہنمائی کے لیے شمع.pk۔


