کیریئر رہنمائی

میٹرک کے بعد کیرئیر کا انتخاب

عاطف شہباز20 ستمبر 202616 منٹفیس بک پر فالو کریں
میٹرک کے بعد کیرئیر کا انتخاب

1۔ کیرئیر منتخب کرنے کا عملی طریقہ

میری میٹرک کی کلاس میں تقریباً پچاس طلبہ تھے۔ ہم روز ایک ہی کمرے میں بیٹھتے، ایک ہی استاد سے پڑھتے اور ایک ہی امتحان کی تیاری کرتے تھے۔ اس وقت محسوس ہوتا تھا کہ ہم سب تقریباً ایک ہی جگہ کھڑے ہیں۔

آج ان میں پی ایچ ڈی کرنے والے بھی ہیں، ڈاکٹر اور انجینئر بھی۔ کچھ زیادہ نہیں پڑھ سکے۔ کوئی مزدوری کرتا ہے، کوئی ریڑھی لگاتا ہے، کوئی مستری ہے۔ کسی نے دکان کھول لی، کسی نے اپنا کاروبار شروع کرلیا۔ کوئی ڈویلپر بن گیا، کوئی کال سینٹر میں کام کرنے لگا اور کوئی کنٹینٹ لکھتا ہے۔ کچھ دوست برطانیہ چلے گئے اور وہاں پیزا ڈلیوری کا کام کرنے لگے۔

میں جب ان سب کے بارے میں سوچتا ہوں تو ایک بات ذہن میں آتی ہے۔ ایک ہی کلاس میں بیٹھے لوگوں کی زندگیاں اتنی مختلف کیسے ہوگئیں؟

اس کا پورا جواب صرف نمبروں میں نہیں ملتا۔ کسی کے گھر کے حالات مختلف تھے۔ کسی کو رہنمائی مل گئی۔ کسی کے سامنے ایسا موقع آیا جس کا دوسروں کو علم بھی نہیں تھا۔ پھر ہر شخص نے مختلف فیصلے کیے اور ان پر اپنے انداز سے عمل کیا۔

ان میں سے کسی پیشے کا نام ہمیں یہ نہیں بتاتا کہ وہ شخص کتنا قابلِ احترام، مطمئن یا کامیاب ہے۔ البتہ یہ ضرور نظر آتا ہے کہ ایک کلاس سے نکل کر کتنی مختلف سمتوں میں جایا جاسکتا ہے۔

اگر آپ ابھی میٹرک میں ہیں یا نتیجے کا انتظار کررہے ہیں، تو آپ بھی ایسے ہی موڑ پر کھڑے ہیں۔ آپ کے سامنے شاید چند مانوس نام ہوں: پری میڈیکل، پری انجینئرنگ، ICS یا ICom۔ گھر میں ایک رائے ہوگی، دوستوں کی دوسری اور رشتہ داروں کی اپنی اپنی۔ کبھی مشورے اتنے ملتے ہیں کہ اصل سوال بیچ میں کہیں دب جاتا ہے: مجھے کس بنیاد پر فیصلہ کرنا چاہیے؟

کچھ لوگ اس سوال کو داخلوں کی آخری تاریخ تک مؤخر کردیتے ہیں۔ پھر جہاں جگہ ملی، فارم جمع ہوگیا۔ کچھ دوستوں کے ساتھ وہی مضامین لے لیتے ہیں۔ کسی نے ایک کامیاب شخص کو دیکھا اور طے کرلیا کہ اسی کا راستہ اختیار کرنا ہے۔

میں چاہتا ہوں کہ ہم اس فیصلے کو تھوڑا وقت دیں۔ یہ آپ کی زندگی کا بہت اہم فیصلہ ہے۔ پہلے جانیں کہ دنیا میں کون کون سے کام ہوتے ہیں اور وہاں پہنچا کیسے جاتا ہے۔ پھر ان امکانات کو اپنی دلچسپی، تیاری اور حالات کے ساتھ رکھیں۔ اس کے بعد اگلا قدم منتخب کریں، اور یہ بھی سمجھیں کہ ہم نے وہ قدم کیوں منتخب کیا ہے۔

معلومات لیں، تجزیہ کریں، پھر فیصلہ کریں۔ اس مضمون میں ہم یہی طریقہ استعمال کریں گے۔

اس کے بعد عمل کی باری آتی ہے۔ سوچ سمجھ کر اچھا راستہ چن لیا، مگر پڑھائی، تربیت یا ضروری محنت نہ کی تو انتخاب کا فائدہ محدود رہ جائے گا۔ دوسری طرف محنت کرتے ہوئے نئی باتیں معلوم ہوسکتی ہیں اور راستہ بہتر کرنے کی ضرورت پڑسکتی ہے۔ آج کے لیے ایسا قدم چننا ہے جس کی وجہ آپ کو سمجھ آتی ہو، اور آگے کے امکانات سے بھی واقف رہنا ہے۔

2۔ دنیا میں اس وقت اہم روزگار کون سے ہیں

میرے ایک جاننے والے پیٹرولیم انجینئر ہیں اور برطانیہ میں برٹش پیٹرولیم میں کام کرتے ہیں۔ اب جس طالب علم نے پیٹرولیم انجینئرنگ کا نام ہی نہیں سنا، وہ اسے اپنے انتخاب میں شامل کیسے کرے گا؟

یہ بات بہت سے دوسرے کاموں پر بھی لاگو ہوتی ہے۔ آپ کسی ایسے موقع پر غور نہیں کرسکتے جس کے وجود کا ہی علم نہ ہو۔ اسی لیے میں شروع میں آپ کے سامنے امکانات کا دائرہ کھولنا چاہتا ہوں۔ کچھ نام نئے لگیں گے۔ ان سب کو فوراً یاد کرنا ضروری نہیں۔ پہلے یہ دیکھیں کہ آپ کو کس کام کے بارے میں مزید جاننے کا دل چاہتا ہے۔

روزگار کی دنیا کو سمجھتے ہوئے پاکستان کی موجودہ صورت حال بھی سامنے رکھیں۔ ایک سروے کے مطابق برسرِ روزگار افراد میں تقریباً 33 فیصد زراعت، جنگلات اور ماہی گیری، 16 فیصد تھوک و پرچون تجارت، اور 15 فیصد مینوفیکچرنگ سے وابستہ تھے۔ یہ موجودہ روزگار کی تقسیم ہے؛ نئی آسامیوں یا زیادہ تنخواہ کی فہرست نہیں۔ مگر اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ کام کی دنیا کتنی وسیع ہے۔

ایک اندازے کے مطابق 2030 تک تیز رفتار نمو والے کاموں میں مصنوعی ذہانت، ڈیٹا، فن ٹیک اور سافٹ ویئر نمایاں ہیں۔ ساتھ ہی تعلیم، نگہداشت، تعمیرات اور دوسرے عملی کاموں میں بھی اضافے کی توقع ہے۔

چلیے، ان بڑے ناموں کے اندر جھانکتے ہیں۔

کمپیوٹنگ میں کئی طرح کے مسائل حل کیے جاتے ہیں۔ سافٹ ویئر ڈویلپر ایپ یا نظام بناتا ہے۔ ڈیٹا اینالسٹ اعداد سے یہ سمجھنے میں مدد دیتا ہے کہ فروخت کہاں کم ہوئی یا خرچ کیوں بڑھا۔ سائبر سکیورٹی میں نظام اور معلومات کی حفاظت پر کام ہوتا ہے۔ پھر بایوانفارمیٹکس جیسا شعبہ ہے، جہاں حیاتیاتی معلومات سمجھنے کے لیے کمپیوٹنگ استعمال ہوتی ہے۔ آپ کو حیاتیات اور کمپیوٹر دونوں پسند ہیں تو یہ نام مزید کھول کر دیکھنے کے قابل ہے۔

صحت میں بھی کئی الگ پیشے ہیں۔ ڈاکٹر، نرس، فارماسسٹ، میڈیکل لیب اور امیجنگ کے ماہر مختلف کام کرتے ہیں۔ آڈیالوجی میں سماعت کی جانچ اور مدد کا کام ہے۔ اسپیچ اینڈ لینگویج تھراپی بولنے اور زبان سے متعلق مشکلات میں مدد دیتی ہے۔ پروسٹھیٹکس اور آرتھوٹس میں مصنوعی اعضا اور جسم کو سہارا دینے والے آلات پر کام ہوتا ہے۔ ان شعبوں کے تعلیمی پروگرام UHS کی فہرست میں بھی موجود ہیں۔

خوراک اور زراعت کے پیچھے بھی پوری پیشہ ورانہ دنیا ہے۔ فوڈ ٹیکنالوجی میں خوراک کی تیاری، حفاظت اور معیار دیکھا جاتا ہے۔ ڈیری ٹیکنالوجی میں دودھ اور اس سے بننے والی مصنوعات کی پروسیسنگ پر کام ہوتا ہے۔ زرعی تحقیق، ویٹرنری، پولٹری، ماحول اور غذائیت کے اپنے الگ راستے ہیں۔ UVAS میں ان میں سے متعدد شعبوں کی ڈگریاں موجود ہیں۔

انجینئرنگ اور ہنرمند کاموں کو ساتھ دیکھیں تو تصویر مزید کھلتی ہے۔ سول، الیکٹریکل اور مکینیکل انجینئرنگ کے علاوہ میکاٹرونکس میں مشین، الیکٹرانکس اور کنٹرول سسٹم اکٹھے آتے ہیں۔ دوسری طرف الیکٹریشن، ویلڈر، اے سی اور ریفریجریشن ٹیکنیشن، آٹو مکینک اور CNC مشین آپریٹر ہیں۔ CNC میں کمپیوٹر سے کنٹرول ہونے والی مشینوں پر پرزے بنائے جاتے ہیں۔ ان پیشوں کی تعلیم اور ذمہ داریاں ایک جیسی نہیں، مگر سب حقیقی کام ہیں۔ NAVTTC کی تربیتی فہرست بھی ہنروں کی اس وسعت کی مثال ہے۔

مالیات اور کاروبار میں حساب، ٹیکنالوجی اور لوگوں کے ساتھ کام ملتا ہے۔ میں خود چارٹرڈ اکاؤنٹنٹ ہوں۔ کسی کاروبار میں یہ سمجھنا کہ منافع کہاں سے آرہا ہے، پیسہ کہاں پھنس رہا ہے اور کس فیصلے پر کتنا خرچ ہوگا، اہم کام ہے۔ اس کے ساتھ بزنس اینالیٹکس، فن ٹیک، سپلائی چین، امپورٹ ایکسپورٹ، سیلز اور پراجیکٹ کوآرڈینیشن ہیں۔ فن ٹیک کو یوں سمجھیں کہ مالی خدمات میں ٹیکنالوجی استعمال ہو، مثلاً ادائیگی کے ڈیجیٹل نظام۔ یہاں مالیات اور کمپیوٹنگ کی مختلف مہارتیں مل سکتی ہیں۔

تخلیقی اور سماجی شعبوں میں بھی بہت کچھ ہے۔ گرافک، ٹیکسٹائل اور انٹیریئر ڈیزائن، اینیمیشن اور ویڈیو پروڈکشن میں کام کی نوعیت مختلف ہے۔ تعلیم میں مضمون پڑھانے کے ساتھ ابتدائی بچپن اور خصوصی تعلیم کے راستے ہیں۔ زبان، ترجمہ، قانون، سماجی تحقیق اور کمیونٹی کے ساتھ کام بھی دیکھیں۔ پھر ہوٹل، سیاحت، کھانے کی تیاری، بیکنگ اور کیٹرنگ کی دنیا ہے۔ ان میں بعض لوگ ملازمت کرتے ہیں اور بعض اپنی خدمات یا کاروبار چلاتے ہیں۔

ایک بات اور ذہن میں رکھیں۔ سرکاری یا نجی ادارہ اکثر آپ کے کام کی جگہ ہوتی ہے؛ پیشہ اس سے زیادہ مخصوص ہوتا ہے۔ استاد، اکاؤنٹنٹ یا انجینئر مختلف نوعیت کے اداروں میں کام کرسکتا ہے۔ اسی طرح آن لائن کام کرنے سے اصل مہارت بدل نہیں جاتی۔ ویڈیو ایڈیٹر کو ویڈیو بنانی آئے گی، چاہے اس کا گاہک لاہور میں ہو یا لندن میں۔ ڈیجیٹل کمائی کے عملی طریقوں پر الگ تفصیل سے بات ہوگی۔

اب صرف پسندیدہ نام دیکھ کر آگے نہ بڑھ جائیں۔ اصل کام بھی دیکھیں۔ کسی بین الاقوامی کال سینٹر میں رات کی شفٹ ہوسکتی ہے۔ کسی تکنیکی کام میں ورکشاپ یا فیلڈ میں جانا پڑسکتا ہے۔ صحت کے کسی کردار میں مریضوں کے ساتھ مسلسل رابطہ ہوگا۔ ایک ہی شعبے کے اندر دفتر، لیبارٹری، فیلڈ اور لوگوں سے رابطے والے کام بھی مختلف ہوسکتے ہیں۔

اگر آپ کو کسی شعبے کی اچھی بات پسند ہے تو اس کی مشکل بھی پڑھیں۔ پھر اندازہ ہوگا کہ وہ کام آپ کو اپنی روزمرہ زندگی میں کیسا لگے گا۔

نیچے روزگار کی دنیا کھول کر دیکھیں۔ کسی شعبے پر کلک کریں، پھر اس کے اندر پیشے دیکھیں۔ جو کام دلچسپ لگے، اسے پسندیدہ انتخاب میں شامل کرسکتے ہیں۔

کسی شعبے پر کلک کریں، پھر اس کے اندر پیشے دیکھیں

سافٹ ویئر ڈویلپر

ایپ اور سافٹ ویئر کے مسائل حل کرنا

کمپیوٹر اور ٹیم کے ساتھ مسلسل کام

تیاری کے لیے: کمپیوٹنگ اور سافٹ ویئر

ڈیٹا اینالسٹ

اعداد سے کاروباری سوال سمجھنا

تجزیہ اور رپورٹنگ

تیاری کے لیے: کمپیوٹنگ اور سافٹ ویئر، ریاضی، کاروبار اور انتظام

مصنوعی ذہانت کا ماہر

ڈیٹا سے سیکھنے والے نظام بنانا

ریاضی، پروگرامنگ اور تجربات

تیاری کے لیے: کمپیوٹنگ اور سافٹ ویئر

سائبر سکیورٹی ماہر

نظام اور معلومات کے تحفظ پر کام

تحقیق، نگرانی؛ بعض کام میں شفٹ

تیاری کے لیے: کمپیوٹنگ اور سافٹ ویئر

بایوانفارمیٹکس ماہر

حیاتیاتی معلومات کا کمپیوٹر سے تجزیہ

حیاتیات اور کمپیوٹنگ کا امتزاج

تیاری کے لیے: کمپیوٹنگ اور سافٹ ویئر، حیاتی علوم اور میڈیکل لیب ٹیکنالوجی

یہ پیشوں کی تعارفی مثالیں ہیں تاکہ کام کی دنیا کا اندازہ ہو — کسی ملازمت، آمدن یا بھرتی کی ضمانت نہیں۔

shama.pk

اب آپ کے ذہن میں کچھ نئے نام آگئے ہوں گے۔ اگلا سوال یہ ہے کہ ان تک پہنچنے کے لیے آج کیا منتخب کرنا ہوگا۔

3۔ ان کیرئیرز تک پہنچنا کیسے ہے

میٹرک کے بعد اپنی اگلی ترجیح کو فی الحال دو بڑی سمتوں میں دیکھیں: تعلیم جاری رکھنا یا کمائی کی طرف جانا۔

تعلیم جاری رکھنے میں آپ کسی آگے کی قابلیت کے لیے وقت لگاتے ہیں۔ کمائی کی طرف جانے میں توجہ ایسا کام شروع کرنے پر ہوتی ہے جس کے بدلے معاوضہ مل سکے۔ دونوں میں سیکھنا شامل ہوسکتا ہے۔ کسی ہنر کی تربیت، استاد کے ساتھ مشق یا اپرنٹس شپ کمائی کے راستے کا ابتدائی حصہ ہوسکتی ہے۔

میں ان دونوں سمتوں کو لوگوں کی ذہانت کی تقسیم نہیں سمجھتا۔ ایک طالب علم کو مزید تعلیم کا وقت میسر ہے۔ دوسرے کے گھر کو جلد آمدن چاہیے۔ ہمیں دونوں کے لیے سنجیدہ امکانات دیکھنے ہیں۔

تعلیم جاری رکھنی ہے تو مضامین کو منزل کے ساتھ جوڑیں۔

میٹرک کے بعد FSc پری میڈیکل، پری انجینئرنگ، ICS، FA، ICom، جنرل سائنس اور ہوم اکنامکس جیسے گروپس سامنے آسکتے ہیں۔ متعلقہ اداروں میں دستیابی اور داخلے کی شرط مختلف ہوگی۔ A Levels اختیار کریں تو آگے مطلوبہ مضامین اور پاکستانی داخلوں کے لیے IBCC کی مساوات بھی دیکھنی ہوگی۔

فنی تعلیم کا ایک راستہ DAE ہے۔ پنجاب TEVTA اسے تین سالہ ڈپلومے کے طور پر بیان کرتا ہے۔ سول، الیکٹریکل یا مکینیکل جیسی متعلقہ ٹیکنالوجی کا انتخاب آگے کی سمت پر اثر ڈالتا ہے۔

اکاؤنٹنسی کی طرف ابتدائی پیشہ ورانہ راستہ بھی موجود ہے۔ ACCA کے مطابق پاکستان میں میٹرک کے بعد Foundation Diploma شروع کیا جاسکتا ہے۔ اس میں سات امتحانات اور پیشہ ورانہ اخلاقیات کا ماڈیول ہے؛ تکمیل کے بعد ACCA Qualification کے اگلے مرحلے کی طرف منتقلی ہوتی ہے۔ ڈپلومہ مکمل کرنا اور پوری پیشہ ورانہ qualification مکمل کرنا الگ مراحل ہیں۔

اب انٹر کے انتخاب کو آگے کی پڑھائی سے ملا کر دیکھیں۔ نیچے امکانات کی سمت بیان ہورہی ہے؛ ہر پروگرام کی مخصوص شرط پھر بھی لاگو ہوگی۔

• پری میڈیکل: MBBS اور BDS کے ساتھ نرسنگ، فارمیسی، ویٹرنری، متعلقہ الائیڈ ہیلتھ اور حیاتیاتی علوم دیکھے جاسکتے ہیں۔ مثلاً UVAS کی ۲۰۲۶ فہرست میں DVM اور PharmD کے لیے پری میڈیکل میں کم از کم ۶۰ فیصد درج ہیں۔ غذائیت اور دوسرے پروگراموں کی شرائط الگ ہیں۔

• پری انجینئرنگ: انجینئرنگ، کمپیوٹنگ اور متعلقہ ریاضی یا سائنس پروگراموں کی تیاری۔ UVAS میں فوڈ سائنس، پولٹری، ماحول اور ڈیری کے بعض پروگراموں کے لیے بھی یہ گروپ درج ہے۔ اس لیے اس کے بعد امکانات انجینئرنگ تک محدود سمجھنا درست نہیں۔

• ICS میں فزکس: کمپیوٹر سائنس اور ریاضی کے ساتھ فزکس کا مجموعہ FAST کے درج انجینئرنگ پروگراموں کے لیے قابلِ قبول ہے۔ ICS میں شماریات اسی فزکس کی شرط کو پورا نہیں کرتا، البتہ ریاضی قبول کرنے والے کمپیوٹنگ پروگرام زیرِ غور آسکتے ہیں۔

• FA یا جنرل سائنس میں ریاضی: صرف گروپ کے نام سے کمپیوٹنگ کا راستہ بند نہ سمجھیں۔ FAST کی کمپیوٹنگ اہلیت میں HSSC ریاضی درج ہے؛ ساتھ SSC کے ۶۰ فیصد، HSSC کے ۵۰ فیصد اور داخلے کے دوسرے تقاضے بھی ہیں۔

• FA بغیر ریاضی: تعلیم، زبانوں، سماجی علوم، فنون، قانون اور کاروبار کے متعلقہ پروگرام دیکھیں۔ مثلاً NCA میں فنون کے داخلے کے لیے HSSC کے ساتھ aptitude، متعلقہ ٹیسٹ اور انٹرویو اہم ہیں۔ آرکیٹیکچر کی شرط کو ہر ڈیزائن پروگرام جیسا نہ سمجھیں۔

• ICom: اکاؤنٹنسی، مالیات اور کاروبار کی سمتوں سے واقفیت دیتا ہے۔ FAST کے BBA، اکاؤنٹنگ اینڈ فنانس، بزنس اینالیٹکس اور فن ٹیک پروگراموں میں مخصوص HSSC مضمون لازم درج نہیں؛ دوسرے گروپس کے طلبہ بھی باقی شرائط پوری کرکے درخواست دے سکتے ہیں۔

• ہوم اکنامکس یا دیگر تسلیم شدہ انٹر اسناد: جہاں کسی بھی HSSC گروپ کو قبول کیا گیا ہو، وہاں متعلقہ مواقع دیکھیں۔ غذائیت یا صحت کے کسی مخصوص پروگرام کے لیے مضمون کی الگ شرط ہوسکتی ہے۔ A Levels میں بھی اصل مضامین اور مساوات کی بنیاد پر یہی جائزہ ہوگا۔

یہاں دو مثالیں پرانی عمومی باتوں پر دوبارہ غور کرواتی ہیں۔

پہلی، پری میڈیکل کے بعد کمپیوٹنگ کا راستہ بعض اداروں میں موجود ہے۔ NUST کے درج کمپیوٹنگ پروگراموں میں اضافی ریاضی کے بغیر آنے والے پری میڈیکل طلبہ کو پہلے سال میں چھ کریڈٹ آورز کی ریاضی مکمل کرنا ہوتی ہے۔ FAST اضافی ریاضی پاس کرنے یا اس کے نتیجے کے انتظار کی شرط بتاتا ہے۔ دونوں کو ایک ہی قاعدہ سمجھ لینا غلط ہوگا۔

NUST میں پری میڈیکل سے انجینئرنگ کی الگ مثال بھی ہے: اضافی ریاضی نہ ہو تو داخلے سے پہلے آٹھ ہفتے کا متعین ریاضی کورس پاس کرنا ہوتا ہے۔ یہ مخصوص ادارے کی شرط ہے؛ پورے پاکستان کا یکساں اصول نہیں۔

دوسری، CA شروع کرنے کے لیے صرف ICom ہونا ضروری نہیں۔ ICAP کی HSSC والی entry route میں ۶۰ فیصد یا زیادہ نمبروں پر ابتدائی PRC مرحلہ درج ہے۔ ۵۰ فیصد سے کم نہیں مگر ۶۰ فیصد سے کم ہوں تو پہلے QAT پاس کرنا ہوتا ہے۔ CMA میں بھی بارہ سالہ تعلیم کی بنیاد پر داخلے کا راستہ موجود ہے۔ آگے امتحانات اور تربیت کے اپنے تقاضے ہیں۔

انٹر کے بعد Associate Degree بھی دیکھنے کے قابل ہے۔ HEC کی انڈرگریجویٹ پالیسی میں دو سالہ Associate Degree کے بعد متعلقہ BS کے پانچویں سمسٹر میں جانے کی گنجائش ہے۔ مضمون بدلنے پر اضافی تیاری اور ادارے کی شرائط لاگو ہوسکتی ہیں۔ اسی طرح متعلقہ DAE سے بعض ڈگری پروگراموں میں درخواست دی جاسکتی ہے؛ NUST اس کے لیے ٹیکنالوجی کے مطابق الگ فہرست دیتا ہے۔ یہ خودکار داخلہ نہیں۔

کمائی کی طرف جانا ہے تو اصل خدمت یا کام پہچانیں۔

مثلاً اے سی کی مرمت میں دلچسپی ہے تو تربیت، عملی مشق، اوزار اور گاہک کے کام کی ذمہ داری سامنے آئے گی۔ اپرنٹس شپ میں آجر کے ساتھ سیکھنے کا موقع ہوسکتا ہے، مگر ہر تربیتی کورس تنخواہ والی اپرنٹس شپ نہیں ہوتا۔ عمر، اہلیت اور جگہ متعلقہ ادارے یا آجر کے مطابق ہوگی۔

کاروبار کرنا ہے تو یہ سمجھنا ہوگا کہ کس کو کیا بیچنا ہے، خرید اور دوسرے اخراجات کیا ہیں، اور گاہک آپ سے کیوں خریدے گا۔ صرف دکان کھل جانے یا سوشل میڈیا پیج بن جانے سے فروخت شروع نہیں ہوجاتی۔ ملازمت کی سمت میں بھی اصل عہدہ، درکار ہنر اور آجر کی شرط دیکھی جائے گی۔

اب راستہ الٹی طرف سے دیکھتے ہیں۔ فرض کریں فوڈ ٹیکنالوجی پسند آئی۔ آپ پہلے متعلقہ ڈگری دیکھیں گے، پھر اس کے لیے قابلِ قبول انٹر گروپ، پھر میٹرک کے بعد اپنا انتخاب۔ اگر پائلٹ بننا ہے تو تعلیم کے ساتھ طبی اہلیت اور فلائنگ ٹریننگ بھی سامنے آئے گی۔ مثلاً کراچی ایرو کلب اپنے کمرشل پائلٹ کورس میں انٹرمیڈیٹ یا مساوی تعلیم، کم از کم اٹھارہ سال عمر اور Class 1 میڈیکل بتاتا ہے۔

امپورٹ ایکسپورٹ یا پراجیکٹ مینجمنٹ جیسے کاموں میں ایک ہی ڈگری سے سیدھا ایک ہی عہدے تک پہنچنے کی لکیر ضروری نہیں ملے گی۔ کاروبار کی سمجھ، متعلقہ شعبے کا علم اور تجربہ بھی راستے کا حصہ ہوسکتے ہیں۔ کسی شعبے میں داخل ہونے اور اس میں سینئر عہدے تک پہنچنے کے درمیان فرق ہوتا ہے۔

نیچے نقشے میں اپنی موجودہ تعلیم سے آگے دیکھیں، یا پسندیدہ پیشہ منتخب کرکے اس تک پہنچنے کے مراحل کھولیں۔

اپنا اگلا قدم دیکھیں

آپ کی موجودہ یا زیرِ غور قابلیت؟

ایف ایس سی پری میڈیکل

UHE 2026–28

ادارے کی مثال
  • میٹرک میں کم از کم نمبر: 50٪
  • بورڈ/گروپ کی منظوری درکار
  • میرٹ اور نشستوں کی بنیاد پر انتخاب

یہ حتمی داخلے کی ضمانت نہیں اور مکمل چیک لسٹ نہیں — درخواست کے وقت ادارے کی موجودہ اور مکمل شرائط ضرور دیکھیں۔

ایف ایس سی پری انجینئرنگ

UHE 2026–28

ادارے کی مثال
  • میٹرک میں کم از کم نمبر: 50٪
  • بورڈ/گروپ کی منظوری درکار
  • میرٹ اور نشستوں کی بنیاد پر انتخاب

یہ حتمی داخلے کی ضمانت نہیں اور مکمل چیک لسٹ نہیں — درخواست کے وقت ادارے کی موجودہ اور مکمل شرائط ضرور دیکھیں۔

آئی سی ایس فزکس کے ساتھ

UHE 2026–28

ادارے کی مثال
  • میٹرک میں کم از کم نمبر: 50٪
  • بورڈ/گروپ کی منظوری درکار
  • میرٹ اور نشستوں کی بنیاد پر انتخاب

یہ حتمی داخلے کی ضمانت نہیں اور مکمل چیک لسٹ نہیں — درخواست کے وقت ادارے کی موجودہ اور مکمل شرائط ضرور دیکھیں۔

آئی سی ایس شماریات کے ساتھ

UHE 2026–28

ادارے کی مثال
  • میٹرک میں کم از کم نمبر: 50٪
  • بورڈ/گروپ کی منظوری درکار
  • میرٹ اور نشستوں کی بنیاد پر انتخاب

یہ حتمی داخلے کی ضمانت نہیں اور مکمل چیک لسٹ نہیں — درخواست کے وقت ادارے کی موجودہ اور مکمل شرائط ضرور دیکھیں۔

ایف اے آرٹس اور ہیومینیٹیز

AIOU

تصدیق شدہ — شرائط کے ساتھ
  • میٹرک پاس ہونا لازم
  • لازمی مضامین: English، Pakistan Studies، Islamiyat
  • دورانیہ (سال): 2
  • تدریس کا طریقہ: ODL

یہ حتمی داخلے کی ضمانت نہیں اور مکمل چیک لسٹ نہیں — درخواست کے وقت ادارے کی موجودہ اور مکمل شرائط ضرور دیکھیں۔

آئی کام

AIOU

تصدیق شدہ — شرائط کے ساتھ
  • میٹرک یا مساوی سند پاس
  • دورانیہ (سال): 2
  • تدریس کا طریقہ: ODL

یہ حتمی داخلے کی ضمانت نہیں اور مکمل چیک لسٹ نہیں — درخواست کے وقت ادارے کی موجودہ اور مکمل شرائط ضرور دیکھیں۔

ایف اے ہوم اکنامکس

UHE 2026–28

ادارے کی مثال
  • میٹرک میں کم از کم نمبر: 45٪
  • میرٹ اور نشستوں کی بنیاد پر انتخاب

یہ حتمی داخلے کی ضمانت نہیں اور مکمل چیک لسٹ نہیں — درخواست کے وقت ادارے کی موجودہ اور مکمل شرائط ضرور دیکھیں۔

ایچ ایس ایس سی درس نظامی

AIOU

تصدیق شدہ — شرائط کے ساتھ
  • قابلِ قبول انٹری: Matric General or AIOU SSC Dars or IBCC equivalent
  • دورانیہ (سال): 2

یہ حتمی داخلے کی ضمانت نہیں اور مکمل چیک لسٹ نہیں — درخواست کے وقت ادارے کی موجودہ اور مکمل شرائط ضرور دیکھیں۔

ڈپلومہ آف ایسوسی ایٹ انجینئرنگ

GCT Rawalpindi / TEVTA duration

ادارے کی مثال
  • میٹرک سائنس درکار
  • دورانیہ (سال): 3
  • ادارے کے داخلہ قواعد لاگو

یہ حتمی داخلے کی ضمانت نہیں اور مکمل چیک لسٹ نہیں — درخواست کے وقت ادارے کی موجودہ اور مکمل شرائط ضرور دیکھیں۔

ACCA Foundation Diploma

ACCA Pakistan

تصدیق شدہ — شرائط کے ساتھ
  • میٹرک یا O Level پر داخلہ
  • مکمل کرنے کے امتحانات: 7
  • Foundations in Professionalism ماڈیول

یہ حتمی داخلے کی ضمانت نہیں اور مکمل چیک لسٹ نہیں — درخواست کے وقت ادارے کی موجودہ اور مکمل شرائط ضرور دیکھیں۔

لائیوسٹاک اسسٹنٹ ڈپلومہ

UVAS

تصدیق شدہ — شرائط کے ساتھ
  • میٹرک میں کم از کم نمبر: 45٪
  • میٹرک کے مضامین: Biology، Physics، Chemistry
  • ڈومیسائل: Punjab
  • تسلیم شدہ بورڈ مساوات درکار

یہ حتمی داخلے کی ضمانت نہیں اور مکمل چیک لسٹ نہیں — درخواست کے وقت ادارے کی موجودہ اور مکمل شرائط ضرور دیکھیں۔

ہنر اور عملی تربیت

Provider and batch dependent

صرف کیٹلاگ میں موجود، تصدیق نہیں
  • کورس کی مخصوص انٹری شرط چیک کریں
  • عمر کی شرط چیک کریں
  • تربیت اور تشخیص

یہ حتمی داخلے کی ضمانت نہیں اور مکمل چیک لسٹ نہیں — درخواست کے وقت ادارے کی موجودہ اور مکمل شرائط ضرور دیکھیں۔

ملازمت یا اپرنٹس شپ

Employer dependent

ادارتی رہنمائی
  • ہر اشتہار کی الگ اہلیت
  • عمر اور کام کی شرائط چیک کریں

یہ حتمی داخلے کی ضمانت نہیں اور مکمل چیک لسٹ نہیں — درخواست کے وقت ادارے کی موجودہ اور مکمل شرائط ضرور دیکھیں۔

خدمات تجارت اور چھوٹا کاروبار

Business dependent

ادارتی رہنمائی
  • ہنر، گاہک، لاگت اور شعبہ وار قواعد الگ الگ

یہ حتمی داخلے کی ضمانت نہیں اور مکمل چیک لسٹ نہیں — درخواست کے وقت ادارے کی موجودہ اور مکمل شرائط ضرور دیکھیں۔

یہ ادارہ وار مثالیں ہیں، پورے پاکستان کا یکساں قاعدہ نہیں۔

shama.pk

راستہ دیکھتے وقت تین مرحلے الگ رکھیں: درخواست دینے کی اہلیت، مقابلے میں داخلہ ملنا، اور تعلیم و تربیت کے بعد کام حاصل کرنا۔ طبی، قانونی اور دوسرے منضبط پیشوں میں پیشہ ورانہ رجسٹریشن بھی درکار ہوسکتی ہے۔

ان مثالوں کے ادارہ جاتی صفحات ستمبر ۲۰۲۶ میں دیکھے گئے ہیں۔ درخواست کے وقت اسی ادارے اور سیشن کی مکمل شرائط دیکھنا ضروری ہوگا۔ فی الحال ان مثالوں کا فائدہ یہ ہے کہ آپ اپنے سامنے موجود راستوں کو زیادہ درست طور پر سمجھ سکتے ہیں۔

4۔ اپنے ذاتی عوامل کا جائزہ

اب تک ہم باہر کی دنیا دیکھ رہے تھے۔ کون سے کام ہیں، ان میں کیا ہوتا ہے اور وہاں پہنچنے کے راستے کیا ہیں۔ اب اپنی طرف دیکھنے کی باری ہے۔

دو طلبہ کے نمبر برابر ہوسکتے ہیں، مگر باقی حالات بہت مختلف۔ ایک کے گھر والے کئی سال کی تعلیم کا خرچ اٹھا سکتے ہیں۔ دوسرے کو جلد گھر میں پیسے دینا ہوں گے۔ ایک دوسرے شہر جاسکتا ہے۔ دوسرے کے لیے روزانہ دور کا سفر بھی مشکل ہے۔ دونوں کو ایک ہی مشورہ دے دینا آسان ہے، مگر اس سے ان کی اصل ضرورت پوری نہیں ہوتی۔

دلچسپی کو روزمرہ کام کے ساتھ دیکھیں۔ کسی پیشے کی عزت، آمدن یا خوب صورت دفتر پسند آنا فطری ہے۔ مگر صبح سے شام تک وہاں ہونے والا کام بھی آپ کو کرنا ہوگا۔ مریض کی بات سننا، بار بار خراب ہونے والے پروگرام کی غلطی ڈھونڈنا، گاہک سے بات کرنا یا کسی مشین کی پیمائش کرنا الگ تجربات ہیں۔ ان میں سے کس نوعیت کے کام میں آپ کی توجہ ٹھہرتی ہے؟

ہوسکتا ہے ابھی آپ کو پورا جواب معلوم نہ ہو۔ میٹرک میں یہ بالکل ممکن ہے۔ اسی لیے پیشوں کی چھوٹی چھوٹی مثالیں دیکھنا مفید ہے۔ دلچسپی کبھی پہلے سے واضح ہوتی ہے اور کبھی کسی کام کو سمجھنے کے بعد پیدا ہوتی ہے۔

اپنی تیاری کو ایمانداری سے دیکھیں۔ نمبر داخلے میں اہم ہیں، مگر اپنی قابلیت کا جائزہ صرف مجموعی فیصد سے نہ لیں۔ ریاضی میں کون سا حصہ مشکل ہے؟ پڑھنے کی عادت کیسی ہے؟ انگریزی متن سمجھنے، لکھنے یا بات کرنے میں کتنا وقت لگتا ہے؟

اگر کسی بنیادی مضمون میں کمزوری ہے تو اس کی قیمت وقت اور محنت کی صورت میں سامنے رکھیں۔ کمزوری بہتر ہوسکتی ہے۔ البتہ ایسے راستے میں جانا جس کا مرکزی کام ہی آپ مسلسل ٹالتے ہوں، مشکل پیدا کرسکتا ہے۔ کمپیوٹنگ پسند ہے تو اس کی ریاضی اور مسئلے حل کرنے والی محنت کو بھی انتخاب کا حصہ سمجھیں۔

مالی حساب پورے راستے کا کریں۔ کالج یا یونیورسٹی کی فیس کے ساتھ سفر، رہائش، امتحانات، کتابیں، لیپ ٹاپ یا اوزار بھی آسکتے ہیں۔ پھر یہ سوال ہے کہ آپ کب تک مناسب آمدن کے بغیر تعلیم جاری رکھ سکتے ہیں۔

میں مالیات سے وابستہ ہوں، اس لیے یہاں ایک بات پر خاص زور دوں گا۔ کسی راستے کی پہلی قسط ادا ہوجانا اور پورا راستہ برداشت کرسکنا مختلف باتیں ہیں۔ صرف داخلہ فیس دیکھ کر فیصلہ کریں گے تو اگلے اخراجات اچانک بڑے لگ سکتے ہیں۔

ساتھ مالی مدد بھی تلاش کے دائرے میں رکھیں۔ مثلاً NUST میں ضرورت کی بنیاد پر امداد کے فارم کی آخری تاریخ داخلے کی درخواست کے ساتھ منسلک ہے۔ یعنی امداد کے بارے میں داخلہ ہوجانے کے بعد سوچنا دیر ہوسکتی ہے۔ AKU کی مالی مدد میں گرانٹ اور قرض کا مجموعہ ہوسکتا ہے۔ ہر مدد کو مفت اسکالرشپ سمجھنا بھی درست نہیں۔

بیرون ملک پڑھنا چاہیں تو اسکالرشپ، متعلقہ تعلیمی سطح، زبان اور باقی خرچ ساتھ دیکھیں۔ HEC مقامی اور بیرونی اسکیموں کی معلومات دیتا ہے، لیکن ہر اسکیم ہر طالب علم کے لیے نہیں ہوتی۔

جگہ اور گھر کی ذمہ داریوں کو حقیقی وزن دیں۔ جس ادارے تک پہنچ ہی نہیں سکتے، اس کا اچھا پروگرام اکیلا مسئلہ حل نہیں کرے گا۔ قریب کا قابلِ اعتماد ادارہ، مناسب سفری بندوبست یا متعلقہ فاصلاتی تعلیم انتخاب بدل سکتی ہے۔ مثلاً AIOU کا ICom فاصلاتی طریقے سے پیش کیا جاتا ہے۔ تاہم اس سے ہر سائنس یا عملی پروگرام کے فاصلاتی طور پر دستیاب ہونے کا نتیجہ نہیں نکلتا۔

صحت اور طرز زندگی بھی دیکھیں۔ کسی مخصوص تربیت یا ملازمت میں عمر یا طبی شرط ہو تو وہ ابتدا ہی میں معلوم ہونی چاہیے۔ دوسری طرف روزمرہ کام کی برداشت کا سوال ہے۔ رات کی شفٹ، مسلسل سفر، دیر تک کھڑے رہنا، شور والی جگہ یا لمبے وقت تک کمپیوٹر پر بیٹھنا آپ کے لیے کیسا ہوگا؟ ضرورت ہو تو اسی شعبے کے اندر مختلف کردار بھی دیکھیں۔

آخر میں یہ سوچیں کہ راستہ بدلنے کی گنجائش کتنی ہے۔ اگر بعد میں دلچسپی بدلے تو اضافی مضمون، تربیت یا دوسری qualification میں کتنا وقت لگے گا؟ ہر راستہ ہر دروازہ کھلا نہیں رکھتا۔ لیکن جہاں متبادل موجود ہوں، ان کا علم فیصلہ کرتے وقت مدد دیتا ہے۔

اپنی اصل صورت حال سمجھنے سے پتا چلتا ہے کہ کہاں موقع موجود ہے اور کہاں پہلے تیاری کرنی ہوگی۔ اسی سمجھ کی بنیاد پر اب انتخاب کی طرف بڑھتے ہیں۔

5۔ حتمی تجزیہ اور انتخاب

اب ہمارے پاس دو طرح کی معلومات ہیں۔ باہر کون سے راستے موجود ہیں، اور ہم اپنی زندگی میں کیا سنبھال سکتے ہیں۔ انتخاب ان دونوں کو ساتھ رکھنے سے واضح ہوگا۔

اس مرحلے پر چند پسندیدہ راستوں کا موازنہ کریں۔ سب سے پہلے بنیادی شرط دیکھیں۔ اگر مطلوبہ مضمون موجود نہیں تو کیا اسے پورا کرنے کا تصدیق شدہ راستہ ہے؟ اگر خرچ موجودہ گنجائش سے باہر ہے تو کیا قابلِ حصول مالی مدد یا کم خرچ متبادل ہے؟

اس کے بعد باقی فرق دیکھیں۔ کس راستے کا روزمرہ کام پسند ہے؟ کس میں تیاری بہتر ہے؟ کس میں کمائی تک پہنچنے کا عرصہ آپ برداشت کرسکتے ہیں؟ اور کس کی مشکل قبول کرنے کو تیار ہیں؟

کسی راستے کے صرف فائدے نظر آرہے ہوں تو تھوڑی معلومات اور چاہیے۔ مشکلات جاننے کے بعد بھی جو انتخاب مناسب لگے، اس کی وجہ زیادہ واضح ہوتی ہے۔

ایک فرضی مثال لیتے ہیں۔ احمد نے میٹرک سائنس کیا ہے۔ ریاضی مناسب ہے، کمپیوٹر کے کام میں دلچسپی ہے اور گھر والے مزید تعلیم کا وقت دے سکتے ہیں۔ قریب کے کالج میں ICS اور پری انجینئرنگ دونوں دستیاب ہیں۔ وہ ایک متعلقہ DAE پر بھی غور کرتا ہے۔

اس کے لیے پہلے سوال یہ ہے کہ اسے کس نوعیت کے کام کی طرف جانا ہے۔ اگر دلچسپی سافٹ ویئر اور کمپیوٹنگ میں زیادہ ہے، اور اس کے دیکھے ہوئے آگے کے پروگراموں میں متعلقہ ICS مجموعہ قابلِ قبول ہے، تو ICS ایک معقول اگلا قدم ہوسکتا ہے۔ فزکس یا شماریات کا انتخاب وہ آگے کی مطلوبہ شرط دیکھ کر کرے گا۔

اگر اس کی اصل دلچسپی الیکٹریکل مشینوں، ورکشاپ اور عملی تکنیکی کام میں نکلتی ہے تو متعلقہ DAE کا وزن بڑھ سکتا ہے۔ احمد کا فیصلہ صرف یہ جان کر نہیں ہوگا کہ محلے کے کس لڑکے کی تنخواہ زیادہ ہے۔ اسے اپنی پسند کے کام اور اس تک پہنچنے کی تیاری کو ساتھ دیکھنا ہوگا۔

فرض کریں وہ ICS منتخب کرتا ہے۔ اب اس کی وجہ واضح ہے: کمپیوٹنگ کی طرف دلچسپی، مطلوبہ مضامین کی موزونیت، قابلِ رسائی کالج اور تعلیم جاری رکھنے کی گنجائش۔ آگے ڈگری کی لاگت، داخلے اور محنت کے تقاضے پھر بھی موجود ہیں۔ لیکن اگلا قدم سمجھ میں آگیا ہے۔

اب دوسری فرضی صورت دیکھیں۔ بلال کو بھی تکنیکی کام اچھا لگتا ہے، مگر گھر میں جلد آمدن ضروری ہے۔ اس کے قریب مناسب تربیت اور نگرانی میں عملی کام سیکھنے کا موقع موجود ہے۔ وہ ہنر کی تربیت اور متعلقہ کام کی سمت کو ترجیح دے سکتا ہے۔

اسے یہ دیکھنا ہوگا کہ سیکھنے کے دوران خرچ کیسے چلے گا، کام کب مل سکتا ہے اور آگے مہارت کیسے بڑھے گی۔ محض یہ سن کر کہ فلاں ہنر میں بہت پیسہ ہے، فوری آمدن فرض نہیں کرلے گا۔ بعد میں حالات بہتر ہوں تو مزید تعلیم یا تربیت کا جائزہ بھی لے سکتا ہے۔

احمد اور بلال کے اگلے قدم الگ ہیں، اور دونوں کے پاس اپنے انتخاب کی وجہ ہوسکتی ہے۔ دونوں کو ایک ہی راستے پر ڈالنے سے ان کے حالات یکساں نہیں ہوجائیں گے۔

نیچے اپنے پسندیدہ راستے ساتھ رکھ کر دیکھیں۔ کسی انتخاب کی شرط یا مدت زیادہ ہے تو یہ بھی سمجھیں کہ اس کے بدلے آپ کس نوعیت کی تیاری حاصل کررہے ہیں۔ صرف سب سے چھوٹی مدت دیکھ کر فیصلہ نہ کریں۔

دو یا تین راستے ساتھ رکھ کر دیکھیں

زیادہ سے زیادہ 3 راستے منتخب کریں — 3/3 منتخب شدہ۔

کمپیوٹنگ اور ڈیجیٹل نظام

سافٹ ویئر ڈویلپر

ایپ اور سافٹ ویئر کے مسائل حل کرنا

کمپیوٹر اور ٹیم کے ساتھ مسلسل کام

اگلا قدم: کمپیوٹنگ اور سافٹ ویئر

FAST · تصدیق شدہ — شرائط کے ساتھ
  • • میٹرک میں کم از کم نمبر: 60٪
  • • انٹرمیڈیٹ میں کم از کم نمبر: 50٪
  • • انٹرمیڈیٹ میں ریاضی درکار

انسانی صحت

ڈاکٹر

مریض کی تشخیص اور علاج

کلینک یا ہسپتال؛ ذمہ داری اور ڈیوٹی

اگلا قدم: ایم بی بی ایس

Punjab public medical admissions · تصدیق شدہ — شرائط کے ساتھ
  • • انٹرمیڈیٹ میں کم از کم نمبر: 60٪
  • • MDCAT میں کم از کم نمبر: 55٪
  • • اوپن میرٹ ڈومیسائل: Punjab

صنعتی اور تعمیراتی ہنر

CNC مشین آپریٹر

کمپیوٹر کنٹرول مشین پر پرزے بنانا

ورکشاپ اور درست پیمائش

اگلا قدم: ہنر اور عملی تربیت، ڈپلومہ آف ایسوسی ایٹ انجینئرنگ

GCT Rawalpindi / TEVTA duration · ادارے کی مثال
  • • میٹرک سائنس درکار
  • • دورانیہ (سال): 3
  • • ادارے کے داخلہ قواعد لاگو

مکمل شرائط اور ذرائع اوپر "اپنا اگلا قدم دیکھیں" ٹول میں دیکھیں۔ یہ صرف تیز موازنہ ہے، حتمی فیصلے کی بنیاد نہیں۔

shama.pk

موازنے کے بعد اپنے فیصلے کی وجہ سادہ لفظوں میں سمجھ آنی چاہیے۔ مثلاً: مجھے یہ کام پسند ہے، اس کی بنیادی تیاری میں کرسکتا ہوں، میرے حالات اس راستے کی اجازت دیتے ہیں، اور مجھے اس کی اہم مشکل کا بھی علم ہے۔

اس کے بعد اگلے قدم پر توجہ دیں۔ مطلوبہ مضامین لینا ہیں، داخلے کی تیاری کرنی ہے، مالی مدد کی درخواست دینی ہے یا کسی ہنر کی تربیت شروع کرنی ہے۔ پھر جو انتخاب کیا ہے، اس کے تقاضے پورے کرنے کے لیے باقاعدہ وقت دیں۔ صرف مزید ویڈیوز دیکھتے رہنے سے فیصلہ آگے نہیں بڑھے گا۔

نئی معلومات ملیں تو فیصلے کا جائزہ لینا بھی ٹھیک ہے۔ ہر نئی کامیابی کی کہانی سن کر راستہ بدلنا تھکا دے گا۔ البتہ کوئی بنیادی شرط، دلچسپی یا گھریلو صورت حال بدل جائے تو دوبارہ سوچنے کی وجہ موجود ہے۔

میں اپنی میٹرک کی کلاس کو یاد کرتا ہوں تو یہی بات سمجھ آتی ہے کہ ایک ہی کمرے سے نکلنے والوں کے لیے زندگی میں بہت سی سمتیں تھیں۔ آج آپ کے سامنے بھی اپنی سمتیں ہیں۔ میری خواہش ہے کہ چند سال بعد آپ کسی نئے شعبے کا نام سن کر یہ نہ سوچیں کہ کاش اس کے بارے میں مجھے پہلے بتایا گیا ہوتا۔

آپ کو آج ہر پیشے کا ماہر نہیں بننا۔ اتنی معلومات ضرور حاصل کرنی ہیں کہ اگلا قدم اپنی سمجھ اور حالات کے ساتھ اٹھاسکیں۔ پھر اس پر محنت کریں۔

اور دوست کسی دوسرے شعبے میں چلا جائے تو دوستی برقرار رکھیے۔ ملاقات کے لیے چائے کا انتظام ہوسکتا ہے؛ ایک ہی ڈگری میں داخلہ لینا ضروری نہیں۔

عاطف شہباز

بانی شمع.pk

اپنے کیریئر کے اگلے قدم کے لیے تیار ہیں؟

نوجوانوں کے لیے مکمل کیریئر رہنمائی کورس اردو میں دیکھیں۔

کورس دیکھیں