میٹرک کا رزلٹ آپ کو یہ تو بتا دیتا ہے کہ آپ کے نمبر کتنے آئے ہیں، لیکن بدقسمتی سے رزلٹ کارڈ کے نیچے یہ نہیں لکھا ہوتا کہ اب آپ کو آگے کون سا راستہ اختیار کرنا چاہیے۔
یہ فیصلہ طالب علم اور اس کے خاندان کو خود کرنا پڑتا ہے۔
کیا مزید تعلیم حاصل کرنی ہے یا کوئی ہنر سیکھ کر کام شروع کرنا ہے؟ اگر تعلیم جاری رکھنی ہے تو کون سے مضامین منتخب کرنے ہیں؟ اس تعلیم پر کتنا وقت اور پیسہ لگے گا؟ اور سب سے بڑھ کر، منتخب کیا جانے والا راستہ آگے کہاں لے جائے گا؟
یہ سوالات اہم بھی ہیں اور مشکل بھی، خصوصاً اس عمر میں جب بیشتر نوجوانوں نے مختلف شعبوں کی عملی دنیا ابھی دیکھی ہی نہیں ہوتی۔
1۔ میٹرک کے بعد کون سے راستے موجود ہیں؟
میٹرک کے بعد ایک طالب علم کے سامنے کئی تعلیمی اور عملی راستے موجود ہیں۔
میٹرک کے بعد دستیاب راستے
ایف ایس سی پری میڈیکل
ایف ایس سی پری انجینئرنگ
آئی سی ایس
آئی کام
ایف اے یا ہیومینٹیز
ڈی اے ای اور دوسرے ٹیکنیکل ڈپلومے
مختلف عملی اور پیشہ ورانہ ہنر
کام یا اپرنٹس شپ کے ساتھ تعلیم جاری رکھنے کا راستہ
ہر راستے کو اپنی قابلیت، دلچسپی، حالات اور مستقبل کے منصوبے کے مطابق پرکھیں۔
ان میں سے کوئی راستہ صرف اپنے نام کی وجہ سے بہتر یا کمتر نہیں۔ اصل سوال یہ ہے کہ کون سا راستہ آپ کی تعلیمی قابلیت، دلچسپی، حالات اور مستقبل کے منصوبے کے مطابق ہے۔
2۔ فیصلہ کرنا مشکل کیوں ہوجاتا ہے؟
میٹرک کے بعد زیادہ تر طلبہ کو مختلف شعبوں کے صرف نام معلوم ہوتے ہیں۔ انہیں یہ معلوم نہیں ہوتا کہ ان شعبوں میں پڑھائی کس نوعیت کی ہوگی، عملی کام کیسا ہوگا اور کیریئر بنانے میں کتنا وقت لگ سکتا ہے۔
مثلاً کسی طالب علم کو کمپیوٹر استعمال کرنا پسند ہوسکتا ہے، لیکن اس کا یہ مطلب ضروری نہیں کہ کمپیوٹر سائنس کی پڑھائی اور پروگرامنگ بھی اس کے لیے موزوں ہوگی۔
اسی طرح بائیولوجی میں اچھے نمبر آنا اہم ہے، مگر ڈاکٹر بننے کے لیے درکار طویل تعلیم، سخت مقابلے اور عملی ذمہ داریوں کو سمجھنا بھی ضروری ہے۔
دوسری مشکل مختلف لوگوں سے ملنے والے مختلف مشورے ہیں۔
کوئی صرف میڈیکل کو محفوظ راستہ سمجھتا ہے۔ کوئی انجینئرنگ کو بہترین انتخاب قرار دیتا ہے۔ کسی کے خیال میں مستقبل صرف کمپیوٹر سائنس کا ہے، جبکہ کوئی سرکاری ملازمت کے علاوہ ہر راستے کو غیرمحفوظ سمجھتا ہے۔
والدین اور رشتہ دار عموماً خیرخواہی سے مشورہ دیتے ہیں، لیکن ان کی رائے ان کے اپنے تجربے، زمانے اور حالات پر مبنی ہوسکتی ہے۔ جو راستہ ایک شخص کے لیے کامیاب رہا ہو، ضروری نہیں کہ وہ دوسرے کے لیے بھی اتنا ہی مناسب ہو۔
سوشل میڈیا نے اس الجھن میں مزید اضافہ کردیا ہے۔ وہاں بعض اوقات کسی شعبے کی صرف کامیاب مثالیں دکھائی جاتی ہیں، جبکہ اس کے پیچھے موجود تعلیم، محنت، مقابلہ اور ناکامیوں کا ذکر بہت کم ہوتا ہے۔
اسی لیے کیریئر کا فیصلہ کسی ایک شخص کی بات، کسی ایک ویڈیو یا کسی وقتی رجحان کی بنیاد پر نہیں کرنا چاہیے۔
3۔ صرف اسکوپ نہیں، مکمل حقیقت دیکھیں
کیریئر کے انتخاب کے وقت نوجوانوں کا ایک عام سوال ہوتا ہے:
اس فیلڈ کا اسکوپ کتنا ہے؟
یہ سوال اہم ضرور ہے، لیکن صرف اسی کی بنیاد پر فیصلہ نہیں کیا جاسکتا۔
صرف اسکوپ کافی نہیں
اچھی فیلڈ وہ ہے جو آپ کے لیے بھی موزوں ہو
کسی شعبے میں روزگار کے اچھے مواقع موجود ہوسکتے ہیں، مگر ممکن ہے اس کی پڑھائی آپ کی دلچسپی یا صلاحیت کے مطابق نہ ہو۔ کسی فیلڈ کا نام بہت پُرکشش ہوسکتا ہے، لیکن اس میں داخلہ مشکل، تعلیم مہنگی یا کیریئر بنانے کا راستہ بہت طویل ہوسکتا ہے۔
اس کے برعکس کوئی شعبہ عام لوگوں میں زیادہ مشہور نہ ہو، لیکن مناسب صلاحیت، محنت اور درست تیاری رکھنے والے نوجوان کے لیے اس میں اچھے مواقع موجود ہوسکتے ہیں۔
اس لیے کسی شعبے کی صرف مقبولیت نہیں، بلکہ اس کی مکمل حقیقت دیکھنی چاہیے۔
4۔ اگر پسندیدہ شعبے میں داخلہ نہ ملے تو؟
کبھی مسئلہ یہ نہیں ہوتا کہ طالب علم نے کوئی راستہ منتخب نہیں کیا۔ مسئلہ یہ ہوتا ہے کہ اس نے صرف ایک ہی راستے کے بارے میں سوچا ہوتا ہے۔
یہ صورتِ حال خاص طور پر انٹرمیڈیٹ کے بعد سامنے آتی ہے۔ ایک طالب علم دو سال پری میڈیکل پڑھتا ہے، داخلہ ٹیسٹ کی تیاری کرتا ہے اور خود کو مستقبل کے ڈاکٹر کے طور پر دیکھنے لگتا ہے۔ گھر والے بھی اسی امید کے ساتھ وقت، پیسہ اور محنت صرف کرتے ہیں۔
پھر اچانک ایم ڈی کیٹ میں مطلوبہ نمبر حاصل نہیں ہوتے، میرٹ نہیں بنتا یا میڈیکل کالج میں داخلہ نہیں ملتا۔
یہ صورت حال باقی فیلڈز میں بھی ہوسکتی ہے۔
اگر متبادل راستوں کے بارے میں پہلے سے سوچا نہ گیا ہو تو طالب علم جلدبازی میں کسی ایسے پروگرام میں داخلہ لے سکتا ہے جس کے بارے میں اسے مناسب معلومات نہیں ہوتیں۔
پلان بی کیوں ضروری ہے؟
پلان بی بنانا ناکامی کی توقع کرنا نہیں، بلکہ سمجھ داری سے منصوبہ بندی کرنا ہے۔
5۔ شمع ڈاٹ پی کے اور اس کورس کا مقصد
میں، عاطف شہباز، تقریباً بیس سال سے پیشہ ورانہ زندگی کا حصہ ہوں اور اس دوران مجھے فنانس، اکاؤنٹنگ، کاروبار اور ٹیکنالوجی کے شعبوں کو قریب سے دیکھنے اور مختلف ممالک میں کام کرنے کا موقع ملا۔ اس سفر میں مجھے بارہا احساس ہوا کہ کیریئر کے آغاز پر درست، متوازن اور عملی معلومات کتنی اہم ہوتی ہیں، جبکہ پاکستانی نوجوانوں کو اکثر کسی شعبے کے صرف فائدے، صرف مشکلات یا محض وقتی رجحانات دکھائی دیتے ہیں۔
اسی خلا کو کسی حد تک پُر کرنے کے لیے میں نے شمع ڈاٹ پی کے (shama.pk) اور کیریئر گائیڈنس کورس تیار کیا ہے، جس کا مقصد کسی ایک شعبے کو بہترین ثابت کرنا یا نوجوان کی جگہ فیصلہ کرنا نہیں، بلکہ مختلف راستوں کی پڑھائی، اخراجات، کام کی نوعیت، مواقع اور چیلنجز کو آسان زبان میں سامنے لانا ہے تاکہ نوجوان اپنی صلاحیت، دلچسپی اور حالات کے مطابق بہتر فیصلہ کرسکے۔
میٹرک کے بعد دور کے رشتہ دار بھی اچانک قریب آجاتے ہیں، صرف یہ پوچھنے کے لیے کہ “بیٹا، آگے کیا کرنا ہے؟” اور ساتھ ہی ایک مفت مشورہ بھی دے جاتے ہیں۔
ان کی خیرخواہی اپنی جگہ، مگر یہ آپ کے مستقبل کا سوال ہے۔ اس لیے سب کی بات ضرور سنیں، مگر فیصلہ اچھی طرح معلومات حاصل کرکے، مختلف راستوں کا تجزیہ کرکے اور خوب سوچ بچار کے بعد کریں۔
مشورہ مفت ہوسکتا ہے، مگر اس پر عمل کرنے میں لگنے والا وقت، محنت اور پیسہ مفت نہیں ہوتا۔
بیٹا، آگے کیا کرنا ہے؟
میڈیکل کرلو
کمپیوٹر میں بہت اسکوپ ہے
سرکاری نوکری بہتر ہے
فیصلہ معلومات، تجزیے اور سوچ بچار سے کریں۔
مشورہ مفت ہوسکتا ہے، مگر وقت، محنت اور پیسہ مفت نہیں ہوتا


