آج میں گھر سے نکلنے سے پہلے موبائل پر موسم دیکھ سکتا ہوں، راستہ معلوم کر سکتا ہوں، کسی کو رقم بھیج سکتا ہوں، کھانا منگوا سکتا ہوں اور چند لمحوں میں مصنوعی ذہانت سے کسی مشکل سوال کی وضاحت لے سکتا ہوں۔ میرے اردگرد بہت سے نوجوان ایسے ہیں جن کے لیے کمپیوٹر اور انٹرنیٹ زندگی کی عام چیزیں ہیں۔ انہوں نے شاید کبھی وہ وقت دیکھا ہی نہیں جب گھر میں ایک کمپیوٹر ہونا بڑی بات سمجھا جاتا تھا، انٹرنیٹ لگوانے کے لیے الگ تار اور آلہ درکار ہوتا تھا، اور کوئی تصویر کھلنے میں بھی اچھا خاصا وقت لگ جاتا تھا۔
اب ذرا 1977 کا پاکستان ذہن میں لائیے۔ نہ موبائل فون، نہ گوگل، نہ ونڈوز، نہ عام آدمی کے لیے انٹرنیٹ، اور نہ ہر دفتر کی میز پر کمپیوٹر۔ دنیا میں ذاتی کمپیوٹر کا دور ابھی ابتدائی قدم اٹھا رہا تھا۔ پاکستان میں بہت سے لوگوں نے کمپیوٹر شاید صرف کسی کتاب یا بیرون ملک کی تصویر میں دیکھا ہوگا۔ ایسے وقت میں اگر کوئی آپ سے کہتا کہ میں پاکستان میں سافٹ ویئر کی کمپنی بناؤں گا تو ممکن ہے آپ اس سے پہلا سوال یہی کرتے: ’’بھائی، سافٹ ویئر خریدے گا کون؟‘‘
یہی سوال مجھے سسٹمز لمیٹڈ کی کہانی کی طرف کھینچتا ہے۔ میں یہ مضمون کسی کمپنی کا تعریفی اشتہار لکھنے کے لیے نہیں لکھ رہا۔ میرا مقصد یہ بھی نہیں کہ میں ہر کامیابی کے ساتھ تالیاں بجاتا چلوں اور مشکل حصے چھوڑ دوں۔ مجھے اس کہانی میں دلچسپی اس لیے ہے کہ یہ ایک ایسے خیال سے شروع ہوئی جس کی منڈی ابھی بنی ہی نہیں تھی، پھر اس نے حکومتی پابندیوں، بدلتی ٹیکنالوجی، محدود مقامی طلب، عالمی بحرانوں، پاکستان کے بارے میں منفی تاثر اور قیادت کی تبدیلی جیسے امتحانات دیکھے۔

مین فریم کمپیوٹر کی تصویر، آئی بی ایم
میں نے اس سفر کو 6 حصوں میں تقسیم کیا ہے۔ ہر حصے میں ہم صرف یہ نہیں دیکھیں گے کہ اُس وقت کیا ہوا، بلکہ یہ بھی دیکھیں گے کہ آج کے نوجوان کے لیے اس میں کیا اشارہ چھپا ہے۔ کیونکہ تاریخ کا فائدہ تب ہے جب وہ ہمیں آج کا کوئی فیصلہ بہتر کرنے میں مدد دے۔
حصہ 1: 1977 — جب مسئلہ صرف سافٹ ویئر بنانا نہیں تھا
سسٹمز لمیٹڈ کی بنیاد 1977 میں رکھی گئی اور اسے پاکستان کا پہلا سافٹ ویئر ادارہ کہا جاتا ہے۔ کمپنی کی اپنی معلومات کے مطابق اعزاز حسین نے اسے قائم کیا۔ اس سفر میں سید بابر علی کی سرپرستی اور شراکت بھی اہم تھی؛ کمپنی کی 45ویں سالگرہ کے موقع پر دونوں کو بانیوں کے طور پر ایک گفتگو میں پیش کیا گیا۔ ایک پرانی صحافتی رپورٹ کے مطابق سید بابر علی نے اعزاز حسین سے، جو اس وقت نیشنل فرٹیلائزر کارپوریشن میں منصوبہ بندی سے وابستہ تھے، اس کمپنی کے قیام میں مدد کرنے کے لیے رابطہ کیا تھا۔
1977 میں معاملہ بالکل الٹ تھا۔ سسٹمز لمیٹڈ کو صرف پروگرام لکھنے والے لوگ نہیں چاہییں تھے؛ اسے پورا ماحول بنانا پڑتا تھا۔ کمپنی کے بانی کے سرکاری تعارف میں بتایا گیا ہے کہ ابتدائی نوعیت کے کام میں نظام کی ترتیب، کمپیوٹر کے آلات کا انتخاب، ان کی تنصیب، اور بڑے صنعتی منصوبوں کی منصوبہ بندی و نگرانی شامل تھی۔ اسے آج کی زبان میں یوں سمجھیں کہ گاہک صرف یہ نہیں کہہ رہا تھا، ’’میرے لیے دکان کا حساب رکھنے کی ایپ بنا دیں۔‘‘ کمپنی کو شاید پہلے یہ سمجھانا پڑتا کہ کمپیوٹر سے حساب کیوں بہتر ہوگا، پھر مناسب مشین منتخب کرنی، اسے چلانا، نظام بنانا، لوگوں کو سکھانا اور پورے عمل کو قابلِ اعتماد بنانا پڑتا۔
میرے لیے اس دور کی سب سے حیران کن تفصیل یہ ہے کہ کمپنی کے آغاز کے وقت پاکستان میں کمپیوٹر درآمد کرنے پر پابندی تھی۔ یہ خدشہ ظاہر کیا جاتا تھا کہ کمپیوٹر لوگوں کی ملازمتیں ختم کر دیں گے۔ اعزاز حسین کے مطابق کمپنی نے واپڈا سے حاصل کیے گئے استعمال شدہ آئی بی ایم مرکزی کمپیوٹر سے کام شروع کیا۔ پھر 1980 کی دہائی کے آغاز میں درآمدی پابندی نرم ہوئی تو بھی امریکی پابندیوں کی وجہ سے جدید مشینیں منگوانا نہایت مشکل رہا۔ یعنی کمپنی نے ایسی چیز کا کاروبار شروع کیا جس کا بنیادی آلہ ہی آسانی سے دستیاب نہیں تھا۔
آج ہم کسی طالب علم کو کہتے ہیں کہ بہانے مت بناؤ، مفت مواد موجود ہے۔ یہ بات بڑی حد تک درست ہے، مگر کبھی کبھی ہم پرانی نسل کے مسئلے کی شدت کا اندازہ نہیں کر پاتے۔ آج اگر میرا لیپ ٹاپ خراب ہو جائے تو میں کسی دوست کی مشین لے سکتا ہوں، مشترکہ دفتر جا سکتا ہوں یا موبائل سے بہت سا کام جاری رکھ سکتا ہوں۔ اُس وقت ایک بڑی مشین رکنے کا مطلب پوری ٹیم کا رک جانا ہو سکتا تھا۔ آج فائل بادل میں محفوظ ہو سکتی ہے؛ اُس وقت ہر چیز کی نقل، حفاظت اور دوبارہ تیاری الگ ذمہ داری تھی۔
اس حصے کا نچوڑ: اچھا موقع ہمیشہ تیار منڈی کی شکل میں نہیں آتا۔ کبھی آپ کو چیز بنانے کے ساتھ لوگوں کو اس کی ضرورت بھی سمجھانی پڑتی ہے۔ مگر جذبے کے ساتھ عملی صلاحیت، صبر اور وسائل کی حقیقت پسندانہ منصوبہ بندی ضروری ہے۔
حصہ 2: پاکستان کی پہلی سافٹ ویئر کمپنی اصل میں کرتی کیا تھی؟
ایک چھوٹی سی روزمرہ مثال لیجیے۔ محلے کی ایک دکان پر مالک خرید، فروخت، ادھار اور موجود سامان الگ الگ رجسٹروں میں لکھتا ہے۔ مہینے کے آخر میں اسے معلوم کرنا ہے کہ اصل منافع کتنا ہوا، کس گاہک نے رقم نہیں دی، اور کون سی چیز دوبارہ منگوانی ہے۔ آج وہ کسی تیار حسابی نظام کی ماہانہ رکنیت لے سکتا ہے۔ موبائل سے رسید بنا سکتا ہے اور چند لمحوں میں رپورٹ دیکھ سکتا ہے۔ لیکن اگر ایسی تیار سہولت موجود نہ ہو تو پہلے یہ سمجھنا پڑے گا کہ دکان میں کام کیسے چلتا ہے، پھر معلومات کے خانے طے ہوں گے، پھر مشین، پروگرام، اندراج کا طریقہ، جانچ اور عملے کی تربیت ہوگی۔

سسٹمز لمیٹڈ نے آغاز میں اسی طرح کے مگر کہیں بڑے اور پیچیدہ مسائل حل کیے۔ اسے مکمل حل فراہم کرنے کا کام کہا جاتا تھا: گاہک کے کاروباری عمل کو سمجھنا، مناسب آلات منتخب کرنا، نظام تیار کرنا، اسے نصب کرنا اور چلنے کے قابل بنانا۔ یہ صرف کوڈ لکھنے کی نوکری نہیں تھی۔ یہاں حساب، انتظام، صنعت، حکومتی طریقہ کار اور لوگوں کے رویے کو بھی سمجھنا پڑتا تھا۔
1980 کے بعد کمپنی نے وفاقی بجٹ بنانے کے عمل کی خودکاری، ضلعی اکاؤنٹس دفاتر اور پاکستان کسٹمز کو کمپیوٹرائز کرنے جیسے منصوبوں پر کام کیا۔ بعد میں مرکزی ڈپازٹری کمپنی کے نظام کے لیے بھی سافٹ ویئر تیار کیا گیا۔ یہ نام نوجوان قاری کو دور کے لگ سکتے ہیں، اس لیے ان کا سادہ مطلب سمجھ لیجیے۔ جب حکومت بجٹ بناتی ہے تو ہزاروں اعداد، محکمے اور حساب ایک دوسرے سے جڑے ہوتے ہیں۔ جب کسٹمز سامان کا اندراج کرتا ہے تو محصول، کاغذات اور اجازت ناموں کی درستگی اہم ہوتی ہے۔ جب حصص کی ملکیت کا ریکارڈ رکھا جاتا ہے تو ایک چھوٹی غلطی بھی مالی نقصان اور اعتماد کے بحران کا سبب بن سکتی ہے۔
آج کی دنیا میں بھی یہی اصول قائم ہے۔ کوئی نوجوان اگر صرف ایک زبان یا اوزار کا نام اپنے تعارف میں لکھ دے تو اس سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ وہ مسئلہ حل کر سکتا ہے۔ مثال کے طور پر آپ کو اسپریڈ شیٹ کے 100 فارمولے یاد ہوں، لیکن اگر آپ دکاندار سے یہ نہ پوچھ سکیں کہ اسے اصل پریشانی کس جگہ ہے تو آپ شاید خوب صورت جدول بنا دیں گے، فائدہ مند نظام نہیں۔ دوسری طرف، کوئی شخص چند اوزار جانتا ہو لیکن کاروبار کا بہاؤ سمجھتا ہو، درست سوال کرتا ہو اور حل کی جانچ کر سکتا ہو تو وہ زیادہ قیمتی ثابت ہوگا۔
سسٹمز لمیٹڈ کے ابتدائی ماڈل میں ایک اور بات چھپی ہے: گاہک ٹیکنالوجی نہیں، نتیجہ خریدتا ہے۔ دکاندار کو ڈیٹا بیس نہیں چاہیے؛ اسے درست حساب چاہیے۔ بینک کو صرف نیا پروگرام نہیں چاہیے؛ اسے محفوظ اور مسلسل خدمت چاہیے۔ طالب علم کو صرف ویڈیو نہیں چاہیے؛ اسے سمجھ آنے والا سبق چاہیے۔ جب ہم یہ فرق سمجھ لیتے ہیں تو اپنی مہارت بیچنے کا طریقہ بھی بدل جاتا ہے۔ ہم یہ کہنا چھوڑ دیتے ہیں کہ ’’میں فلاں اوزار جانتا ہوں‘‘ اور یہ بتانا شروع کرتے ہیں کہ ’’میں آپ کا یہ مسئلہ اس طرح حل کر سکتا ہوں۔‘‘
اس حصے کا نچوڑ: کوڈ ایک ذریعہ ہے، مقصد نہیں۔ سب سے قیمتی شخص وہ ہے جو کاروبار یا زندگی کے اصل مسئلے کو سمجھے، اسے چھوٹے قابلِ حل حصوں میں تقسیم کرے اور ایسا نظام بنائے جس پر لوگ اعتماد کر سکیں۔
حصہ 3: ایک کمپنی جو کم از کم 8 مرتبہ خود کو بدل چکی
اعزاز حسین نے ایک مختصر گفتگو میں کہا کہ ان کے شعبے میں ٹیکنالوجی تقریباً ہر 5 سال بعد بدلتی ہے، اور 40 سال کے دوران سسٹمز لمیٹڈ نے خود کو کم از کم 8 بار نئے سرے سے ڈھالا۔ یہ جملہ میرے نزدیک اس پوری کہانی کا مرکز ہے۔ ہم اکثر کسی کمپنی کی ترقی کو سیدھی اوپر جاتی لکیر سمجھتے ہیں؛ حقیقت میں یہ بار بار سیکھنے، پرانا چھوڑنے اور نئے خطرے کو قبول کرنے کا عمل ہوتا ہے۔
اپنی روزمرہ زندگی میں کیسٹ، سی ڈی، یادداشت کی چھوٹی ڈرائیو اور آن لائن گانے کا سفر یاد کیجیے۔ اگر کوئی دکان صرف اس بات پر فخر کرتی رہتی کہ ہمارے پاس شہر کی بہترین کیسٹیں ہیں، تو اس کی مہارت ایک وقت کے بعد بوجھ بن جاتی۔ گاہک کی اصل ضرورت موسیقی سننا تھی، کیسٹ خریدنا نہیں۔ جس کاروبار نے ضرورت کو پہچانا وہ نئے ذریعے کی طرف جا سکتا تھا؛ جس نے اپنے آپ کو ذریعے ہی کے ساتھ باندھ لیا وہ پیچھے رہ گیا۔
سسٹمز لمیٹڈ نے مرکزی کمپیوٹر کے دور سے کام شروع کیا۔ پھر ذاتی کمپیوٹر، مقامی جال، کلائنٹ سرور نظام، انٹرنیٹ، کاروباری اطلاقات، بیرونی خدمات، بادل، ڈیٹا اور اب مصنوعی ذہانت کے ادوار آئے۔ ہر تبدیلی میں صرف نئی فنی مہارت نہیں چاہیے تھی۔ فروخت کا انداز، گاہک کی توقع، منصوبے کی قیمت، ٹیم کی ساخت اور کام کی رفتار بھی بدلتی رہی۔ پرانے منصوبے برسوں چل سکتے تھے؛ آج گاہک چند ہفتوں میں ابتدائی نتیجہ دیکھنا چاہتا ہے۔ پہلے ادارہ اپنی مشین خریدتا تھا؛ اب وہ دور موجود خدمت کی رکنیت لے سکتا ہے۔ پہلے معلومات دفتر کی دیواروں کے اندر رہتی تھیں؛ آج سلامتی کا سوال دنیا بھر کے جال سے جڑا ہے۔

یہ تبدیلیاں کتاب میں خوب صورت لگتی ہیں، مگر دفتر میں ان کا مطلب مشکل فیصلے ہوتے ہیں۔ فرض کریں آپ نے 10 سال ایک خاص نظام سیکھنے میں لگائے ہیں۔ اسی مہارت نے آپ کو عزت، عہدہ اور اچھی آمدن دی۔ اب نئی نسل ایک مختلف اوزار کے ساتھ آتی ہے اور کہتی ہے کہ پرانا طریقہ بدلنا ہوگا۔ انسان فطری طور پر دفاعی ہو جاتا ہے۔ اسے لگتا ہے نئی چیز کو ماننا اپنی پرانی محنت کی توہین ہے۔ حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ پرانی محنت نے ہمیں مسئلہ سمجھنا سکھایا؛ نئے اوزار کو اپنانا اس محنت کا انکار نہیں، اس کا اگلا استعمال ہے۔
سسٹمز لمیٹڈ میں تبدیلی صرف ٹیکنالوجی تک محدود نہیں رہی۔ اعزاز حسین نے یہ بھی کہا کہ انتظام اُن لوگوں سے نئی نسل کے لوگوں کی طرف منتقل ہوا جو مختلف دہائیوں میں پیدا ہوئے تھے، اور نئی توانائی اور نئی ٹیکنالوجی سے واقفیت نے جگہ سنبھالی۔ یہ بات بہت اہم ہے۔ کچھ بانی اپنی بنائی ہوئی چیز کو اتنا مضبوطی سے پکڑ لیتے ہیں کہ وہ کمپنی کو اپنے بعد بڑھنے نہیں دیتے۔ کسی ادارے کا اصل امتحان یہ نہیں کہ بانی کتنا ذہین ہے، بلکہ یہ ہے کہ ادارہ اگلی قیادت میں بھی سیکھ سکتا ہے یا نہیں۔
مشکل وقت صرف مشین بدلنے سے نہیں آیا۔ 2000 کی دہائی کے آغاز میں ڈاٹ کام بحران نے ٹیکنالوجی کی بہت سی کمپنیوں کی آمدن متاثر کی۔ پھر 9/11 کے بعد امریکی اداروں کو پاکستان سے خدمات لینے پر آمادہ کرنا زیادہ مشکل ہوگیا۔ پاکستان کو خطرناک مقام سمجھنے کا تاثر کاروباری رشتوں کے راستے میں کھڑا تھا۔ ایسی صورت میں اچھا پروگرام کافی نہیں ہوتا؛ گاہک کو یہ یقین بھی دلانا پڑتا ہے کہ ٹیم مسلسل کام کرے گی، معلومات محفوظ رہیں گی اور منصوبہ سیاسی یا سلامتی کے خدشات سے نہیں ٹوٹے گا۔
آج کا نوجوان شاید ایک خاص ویب طریقہ، ڈیزائن کے اوزار یا آن لائن منڈی سے آمدن شروع کرے۔ اسے اس مہارت سے پوری محبت ہونی چاہیے، مگر اپنی شناخت اس کے ساتھ قید نہیں کرنی چاہیے۔ میرا اصول یہ ہے: کسی ایک آلے سے محبت نہ کریں، سیکھنے سے محبت کریں۔ آلہ بدل جائے گا؛ مسئلہ سمجھنے، واضح بات کرنے، وعدہ پورا کرنے اور مسلسل سیکھنے کی عادت آپ کے ساتھ رہے گی۔
اس حصے کا نچوڑ: پائیدار کامیابی کا راز ایک بار صحیح انتخاب کرنا نہیں، بلکہ وقت آنے پر اپنے صحیح سمجھے ہوئے انتخاب کو بھی دوبارہ جانچنا ہے۔ جو شخص اپنی مہارت بدل سکتا ہے، وہ تبدیلی سے ڈرتا نہیں؛ اسے استعمال کرتا ہے۔
حصہ 4: پاکستان سے دنیا تک — اصل برآمد اعتماد تھا
پاکستان میں کامیاب منصوبے کرنے کے باوجود ایک حد سامنے آتی ہے: مقامی منڈی کتنی بڑی ہے؟ 1990 کی دہائی میں سسٹمز لمیٹڈ نے محسوس کیا کہ صرف پاکستان کے کاروبار پر رہنے سے اس کی ترقی محدود ہو سکتی ہے۔ کمپنی کے بانی کے مطابق امریکی اداروں کے ساتھ سفر 1996 میں شروع ہوا، اور 1997 میں نیو جرسی کی وژنٹ سسٹمز حاصل کی گئی۔ یہ صرف نقشے پر ایک نیا ملک شامل کرنا نہیں تھا؛ یہ کاروبار کی نوعیت بدلنے کا قدم تھا۔
آج ایک پاکستانی نوجوان گھر بیٹھے کسی دوسرے ملک کے گاہک سے ویڈیو پر بات کر سکتا ہے، اپنا کام آن لائن دکھا سکتا ہے، فوری پیغام بھیج سکتا ہے اور ادائیگی وصول کر سکتا ہے۔ 1990 کی دہائی میں رابطہ مہنگا، سست اور محدود تھا۔ بڑی کمپنی کا منصوبہ تو ویسے بھی صرف ایک اچھی گفتگو سے نہیں ملتا۔ گاہک یہ دیکھتا ہے کہ ٹیم کا قانونی اور مالی ڈھانچہ کیا ہے، کام کون سنبھالے گا، مسئلہ آنے پر کون جواب دے گا، معلومات کی حفاظت کیسے ہوگی اور برسوں بعد بھی خدمت جاری رہے گی یا نہیں۔
پھر پاکستان کے بارے میں بیرونی تاثر ایک الگ مشکل تھا۔ ڈاٹ کام بحران کے بعد منڈی دباؤ میں تھی، اور 9/11 کے بعد سلامتی کے خدشات نے پاکستانی خدمات کی فروخت مزید مشکل بنا دی۔ اعزاز حسین نے 2015 کے ایک انٹرویو میں کہا کہ اگر پاکستان کو بیرونی خدمات کے لیے خطرناک مقام نہ سمجھا جاتا اور گاہک آزادانہ یہاں آ سکتے تو کمپنی کا حجم کہیں زیادہ ہو سکتا تھا۔ اس اعتراف میں کامیابی کے ساتھ ایک ادھورا امکان بھی نظر آتا ہے۔ ہر رکاوٹ صرف آپ کی غلطی نہیں ہوتی، مگر اس کا جواب پھر بھی آپ کو ہی بنانا پڑتا ہے۔
یہاں ایک سادہ مثال مدد دیتی ہے۔ فرض کریں 2 آن لائن دکاندار ایک ہی معیار کی قمیص بیچتے ہیں۔ پہلے دکاندار کی تصاویر صاف ہیں، قیمت واضح ہے، پیغام کا جواب وقت پر آتا ہے، واپسی کا طریقہ لکھا ہوا ہے اور پہلے گاہکوں کی رائے موجود ہے۔ دوسرے کے پاس شاید کپڑا اتنا ہی اچھا ہو، مگر جواب دیر سے آئے، پتا مبہم ہو اور شکایت کا راستہ نہ ہو۔ گاہک صرف قمیص کا کپڑا نہیں دیکھتا؛ وہ پورے لین دین کا خطرہ دیکھتا ہے۔ عالمی فنی خدمت میں یہی بات کئی گنا بڑی ہو جاتی ہے۔
سسٹمز لمیٹڈ نے مختلف منڈیوں میں موجودگی، مقامی رابطے اور بڑے عالمی ٹیکنالوجی اداروں کے ساتھ شراکت کے ذریعے یہ خطرہ کم کرنے کی کوشش کی۔ کمپنی نے بعد کے برسوں میں مشرق وسطیٰ، یورپ، شمالی امریکا، افریقہ اور ایشیا کے گاہکوں تک دائرہ بڑھایا۔ آج اس کی ویب سائٹ 16 سے زیادہ ملکوں میں موجودگی یا گاہک، اور 300 سے زیادہ فعال گاہک بتاتی ہے۔ یہ اعداد متاثر کرتے ہیں، مگر ان کے پیچھے اصل کہانی ہر نئے گاہک کے ساتھ دوبارہ اعتماد حاصل کرنے کی ہے۔
عالمی ترقی صرف دفتر کھولنے سے نہیں ہوئی۔ کمپنی نے دوسری صلاحیتوں کو اپنے ساتھ جوڑنے کا راستہ بھی اختیار کیا۔ ڈیجیٹل بینکاری کے شعبے میں این ڈی سی ٹیک کو حاصل کرنے کا معاہدہ اس لیے اہم تھا کہ اس کے پاس بینکوں کے بنیادی نظام اور مختلف خطوں کا تجربہ تھا۔ 2025 میں کنفز کو حاصل کرنے سے شمالی امریکا اور یورپ میں رسائی، خردہ و صارف اشیا کے شعبے، ڈیٹا، بادل اور مصنوعی ذہانت سے متعلق صلاحیتیں بڑھانے کا مقصد سامنے آیا۔ سادہ الفاظ میں، کبھی کمپنی ہر چیز خود بنانے کے بجائے ایسی ٹیم کو ساتھ ملاتی ہے جس کے پاس مطلوبہ راستہ، گاہک یا مہارت پہلے سے موجود ہو۔

نوجوان کے لیے یہاں ایک باریک سبق ہے۔ ہم عالمی کام کو صرف اچھی انگریزی یا سستے نرخ سے جوڑ دیتے ہیں۔ زبان اور قیمت اہم ہو سکتی ہیں، مگر طویل سفر کی بنیاد قابلِ اعتماد کام ہے۔ وقت پر جواب، واضح تحریر، محفوظ طریقہ، غلطی تسلیم کرنا، دستاویز بنانا اور وعدے کے مطابق نتیجہ دینا وہ عادتیں ہیں جو مقامی کام کو بھی عالمی معیار کے قریب لاتی ہیں۔
اس حصے کا نچوڑ: فنی خدمات میں سب سے بڑی برآمد کوڈ نہیں، اعتماد ہے۔ مہارت دروازہ کھولتی ہے، لیکن مستقل معیار، واضح رابطہ اور خطرہ کم کرنے کا طریقہ گاہک کو اندر آنے پر آمادہ کرتا ہے۔
حصہ 5: پروگرامر سے سربراہ — آصف پیر کی کہانی کیوں اہم ہے؟
کمپنیوں کی کہانی عام طور پر بانی کے گرد گھومتی ہے۔ بانی کا خواب یقیناً اہم ہوتا ہے، مگر 50 سالہ ادارہ ایک شخص کی توانائی پر نہیں چل سکتا۔ سسٹمز لمیٹڈ کی کہانی کا میرے لیے سب سے قابلِ تعلق حصہ آصف پیر کا سفر ہے۔ کمپنی کے سرکاری تعارف کے مطابق انہوں نے 1996 میں اسی ادارے میں سافٹ ویئر بنانے والے کی حیثیت سے اپنے پیشہ ورانہ سفر کا آغاز کیا اور بعد میں اسی کے سربراہ اور منتظمِ اعلیٰ بنے۔
آج ملازمت شروع کرنے والا نوجوان اکثر 2 انتہاؤں میں پھنس جاتا ہے۔ پہلی سوچ یہ ہے کہ ’’میں بس محنت کرتا رہوں، ادارہ خود ایک دن مجھے اوپر لے جائے گا۔‘‘ دوسری سوچ یہ ہے کہ ’’6 مہینے ہوگئے، عہدہ نہیں بدلا، فوراً جگہ بدل دینی چاہیے۔‘‘ دونوں فیصلے ہر صورت میں درست نہیں۔ کسی جگہ زیادہ عرصہ رہنا تب فائدہ دیتا ہے جب آپ کی ذمہ داری، سمجھ اور اثر بڑھ رہا ہو۔ اگر آپ ہر سال صرف وہی آسان کام دہرا رہے ہیں تو مدت بڑھ رہی ہے، قدر نہیں۔ اور جگہ بدلنا تب فائدہ دیتا ہے جب وہ نئی سیکھ، بہتر ماحول یا بڑی ذمہ داری کی طرف قدم ہو، صرف تعارف میں ایک اور نام شامل کرنے کے لیے نہیں۔
آصف پیر کی کہانی میں ایک اور اہم چیز ملکیت کا تصور ہے۔ سسٹمز لمیٹڈ نے ابتدائی دور سے نمایاں ملازمین کو حصص کے ذریعے ادارے میں حصہ دینے کی کوشش کی۔ 2014 میں کمپنی حصص بازار میں آئی تو پرانے ملازم حصص یافتگان کو مالی فائدہ بھی ہوا۔ اعزاز حسین کا نقطہ یہ تھا کہ جب ملازمین ادارے کے مالک بھی ہوں تو ان کا رویہ بدل جاتا ہے۔ یہ ہر کمپنی کے لیے ایک ہی نسخہ نہیں، لیکن اصول سمجھنے کے قابل ہے: جس شخص کو فیصلے کے نتیجے میں حصہ محسوس ہو، وہ کام کو صرف حاضری نہیں سمجھتا۔

نوجوان اگر کسی ادارے میں ملازم ہے تو اسے یہ انتظار نہیں کرنا چاہیے کہ کاغذ پر مالک لکھا جائے تب وہ مالک کی طرح سوچے۔ مالک کی طرح سوچنے کا مطلب مفت میں حد سے زیادہ کام کرنا یا اپنے حقوق بھول جانا نہیں۔ اس کا مطلب ہے اپنے کام کے اگلے اثر کو دیکھنا۔ اگر میں غلط رقم درج کروں تو گاہک کی رپورٹ پر کیا اثر ہوگا؟ اگر میں مشکل بات چھپا دوں تو ٹیم کو بعد میں کتنا نقصان ہوگا؟ اگر میں ایک عمل بہتر کر دوں تو اگلے 10 لوگوں کا وقت کیسے بچے گا؟ یہ سوال آپ کو عام عمل کرنے والے سے مسئلہ حل کرنے والا بناتے ہیں۔
قیادت کی منتقلی بانی کے لیے بھی امتحان ہے۔ اپنی بنائی ہوئی کمپنی کی باگ کسی ایسے شخص کو دینا جو کبھی نوجوان ملازم تھا، صرف اس شخص کی کامیابی نہیں؛ یہ بانی کی طرف سے ادارے کو اپنے نام سے بڑا ماننے کی علامت بھی ہو سکتی ہے۔ بہت سے چھوٹے کاروبار اس مقام پر رک جاتے ہیں۔ مالک ہر رسید، ہر فون اور ہر چھوٹا فیصلہ خود کرنا چاہتا ہے۔ نتیجہ یہ کہ کاروبار مالک کے وقت سے بڑا نہیں ہو پاتا۔
اس حصے کا نچوڑ: طویل پیشہ ورانہ ترقی صرف ایک جگہ بیٹھے رہنے یا بار بار جگہ بدلنے کا نام نہیں۔ اصل سوال یہ ہے کہ کیا آپ کی ذمہ داری، فیصلہ کرنے کی صلاحیت اور دوسروں کے لیے پیدا کی گئی قدر بڑھ رہی ہے؟ اچھی قیادت وہ ہے جو اپنے بعد نئی قیادت پیدا کرے۔
حصہ 6: آج کی سسٹمز لمیٹڈ — بڑے اعداد کے پیچھے نوجوان کے لیے 7 سبق
2026 میں سسٹمز لمیٹڈ وہ چھوٹی ٹیم نہیں جو ایک استعمال شدہ مرکزی کمپیوٹر کے ساتھ راستہ بنا رہی تھی۔ کمپنی کی موجودہ ویب سائٹ کے مطابق اس کے 8,500 سے زیادہ کارکن، 300 سے زیادہ فعال گاہک اور 16 سے زیادہ ملکوں میں موجودگی یا گاہک ہیں۔ 2025 کے مجموعی مالی نتائج میں گاہکوں سے آمدن تقریباً 80.4 ارب روپے اور سال کا منافع تقریباً 11 ارب روپے بتایا گیا۔ خدمات میں کاروباری اطلاقات، ڈیجیٹل تبدیلی، ڈیٹا، بادل، سلامتی، مصنوعی ذہانت، بنیادی ڈھانچہ اور کاروباری عمل کی خدمات شامل ہیں۔
یہ اعداد کسی نوجوان کو متاثر بھی کر سکتے ہیں اور دور بھی دھکیل سکتے ہیں۔ مگر آج کا عدد آغاز کا سائز نہیں؛ یہ 50 سال کے فیصلوں، غلطیوں، نئے راستوں اور ہزاروں لوگوں کے کام کا جمع شدہ نتیجہ ہے۔ میں اس سفر سے 7 سادہ سبق نکالتا ہوں جنہیں طالب علم، ملازم یا چھوٹا کاروباری اپنے حالات کے مطابق آزما سکتا ہے۔

سبق 1: رجحان عام ہونے سے پہلے مسئلہ دیکھنا سیکھیں
1977 میں سافٹ ویئر عام کاروباری لفظ نہیں تھا۔ بانیوں نے ایسی سمت میں قدم رکھا جہاں سہولت کم اور وضاحت کی ضرورت زیادہ تھی۔ آج اس کا مطلب یہ نہیں کہ ہر نئی چیز کے پیچھے بھاگیں۔ ہر ہفتے کوئی نیا اوزار آتا ہے۔ اصل سوال یہ ہے کہ اس سے کس کا حقیقی مسئلہ حل ہوگا؟ اگر آپ اپنے شہر کے چھوٹے اسکولوں، دکانوں، کلینکوں یا اردو پڑھنے والے طالب علموں کی ایک بار بار آنے والی مشکل دیکھ سکتے ہیں تو شاید آپ کے سامنے معنی خیز موقع ہے۔
سبق 2: آلے کے بجائے مسئلے میں مہارت پیدا کریں
کمپنی نے کسی ایک مشین یا زبان کے نام پر 50 سال نہیں گزارے۔ اوزار بدلتے رہے، مگر اداروں کے پیچیدہ کام کو بہتر بنانے کی بنیادی سمت قائم رہی۔ آج آپ کوئی پروگرامنگ زبان، ڈیزائن کا آلہ یا مصنوعی ذہانت کا نظام سیکھیں، مگر ساتھ یہ بھی سیکھیں کہ گاہک سے سوال کیسے کرنا ہے، ضرورت کیسے لکھنی ہے اور نتیجہ کیسے جانچنا ہے۔ ہتھوڑا پکڑنے والا ہر چیز کو کیل سمجھنے لگے تو نقصان ہوگا۔
سبق 3: مشکل دور میں شناخت نہیں، طریقہ بدلیں
کمپیوٹر کی درآمد پر پابندی، ٹیکنالوجی کی منتقلی کی رکاوٹ، ڈاٹ کام بحران اور پاکستان کے بارے میں منفی تاثر مختلف نوعیت کے مسائل تھے۔ ایک ہی جواب سب پر نہیں چل سکتا تھا۔ کبھی دستیاب مشین سے آغاز ہوا، کبھی بیرونی منڈی میں موجودگی بنائی گئی، کبھی ڈھانچہ بدلا گیا۔ آج اگر کسی آزاد کام کی ویب گاہ پر آپ کو کام نہیں مل رہا تو شاید مسئلہ آپ کی پوری قابلیت نہیں؛ نمونے، مخصوص شعبے، رابطے یا گاہک تک پہنچنے کا راستہ بدلنے کی ضرورت ہو۔ اپنی قدر اور موجودہ طریقے کو ایک چیز نہ سمجھیں۔
سبق 4: اعتماد کو قابلِ ناپ عمل بنائیں
’’میں بہت ذمہ دار ہوں‘‘ لکھ دینا آسان ہے۔ ذمہ داری کا ثبوت وقت پر جواب، واضح قیمت، کام کی تحریری حد، محفوظ نقل، باقاعدہ اطلاع اور وعدے کے مطابق نتیجہ ہے۔ بڑی عالمی کمپنی بھی آخرکار یہی چیز بڑے پیمانے پر کرتی ہے۔ طالب علم اپنے گروہی منصوبے سے یہ عادت شروع کر سکتا ہے: کام کس کے ذمہ ہے، کب ہوگا اور مسئلہ آئے تو کب بتایا جائے گا؟ اعتماد ایک احساس ضرور ہے، مگر بنتا عمل سے ہے۔
سبق 5: ایسا کام کریں جو آپ کے بغیر بھی دہرایا جا سکے
شروع میں ایک ہنر مند شخص بہت کچھ خود کر سکتا ہے۔ ترقی کے ساتھ یادداشت اور ذاتی نگرانی کافی نہیں رہتی۔ طریقہ لکھنا، جانچ کی فہرست، واضح ذمہ داری اور تربیت ضروری ہوتی ہے۔ اگر آپ آن لائن کپڑوں کی دکان چلاتے ہیں اور ہر آرڈر صرف آپ کی یاد سے چلتا ہے تو 10 آرڈر ممکن ہیں، 1,000 مشکل۔ نظام بنانا خشک کام لگ سکتا ہے، مگر یہی چھوٹے کام کو کاروبار بناتا ہے۔
سبق 6: قیادت کا ایک مقصد اگلا رہنما تیار کرنا ہے
آصف پیر کا پروگرامر سے سربراہ بننا صرف ذاتی محنت کی کہانی نہیں؛ یہ ادارے کے اندر ترقی کے امکان کی مثال بھی ہے۔ اگر ٹیم کا بہترین شخص ہر فیصلہ خود رکھے اور دوسروں کو سیکھنے نہ دے تو وہ وقتی طور پر ضروری نظر آئے گا، مگر ادارہ کمزور رہے گا۔ اسکول کے گروہی کام میں بھی اچھا رہنما ہر کام خود نہیں کرتا؛ کام بانٹتا، سمجھاتا اور نتیجے کی ذمہ داری لیتا ہے۔
سبق 7: تیز کامیابی سے زیادہ لمبی قابلیت بنائیں
اب ایک آخری تقابل کیجیے۔ 1977 میں مسئلہ معلومات اور مشین تک رسائی کی کمی تھا۔ 2026 میں مسئلہ معلومات کی زیادتی اور توجہ کی کمی ہے۔ اُس وقت سیکھنے کا مواد مشکل سے ملتا تھا؛ آج ایک طالب علم 20 نصاب شروع کرکے کوئی مکمل نہیں کرتا۔ اُس وقت بیرون ملک گاہک تک پہنچنا بہت مشکل تھا؛ آج پیغام پہنچ سکتا ہے مگر ہزاروں لوگوں میں نمایاں ہونا مشکل ہے۔ اُس وقت آلہ نہ ملنے سے کام رکتا تھا؛ آج بار بار نیا آلہ بدلنے سے کام مکمل نہیں ہوتا۔ زمانہ بدل گیا، مگر مستقل مزاجی کی ضرورت ختم نہیں ہوئی۔
اس حصے کا نچوڑ: بڑی کمپنی کے اعداد کو دیکھ کر مرعوب ہونے کے بجائے اُن عادتوں کو دیکھیں جن سے عدد بنا: مسئلہ شناسی، مسلسل سیکھ، اعتماد، نظام، نئی قیادت اور وقت کے ساتھ خود کو بدلنے کی ہمت۔
اختتام: 1977 کی ٹیکنالوجی چلی گئی، سیکھنے والی کمپنی باقی رہی
اس سفر میں رومانوی کامیابی کے ساتھ سخت حقیقت بھی ہے۔ کمپیوٹر منگوانا منع تھا۔ استعمال شدہ مشین سے کام شروع کرنا پڑا۔ بیرونی پابندیوں نے راستہ روکا۔ مقامی منڈی محدود تھی۔ عالمی بحران آیا۔ 9/11 کے بعد پاکستان کے نام کے ساتھ خطرے کا تصور جڑ گیا۔ نئی ٹیکنالوجی نے پرانی مہارتوں کو بار بار چیلنج کیا۔ قیادت کی ایک نسل کو دوسری کے لیے جگہ بنانا پڑی۔ ان حالات میں ہر فیصلہ درست رہا ہوگا، یہ دعویٰ میں نہیں کر سکتا؛ مگر اتنا واضح ہے کہ کمپنی نے جمود کو محفوظ راستہ نہیں سمجھا۔
اگر میں پوری کہانی کو ایک روزمرہ مثال میں سمیٹوں تو یہ ایک ایسے دکاندار کی طرح ہے جو پہلے رجسٹر میں حساب رکھتا تھا، پھر کمپیوٹر لایا، پھر جال سے دکانیں جوڑیں، پھر آن لائن فروخت شروع کی، پھر گاہک کے رویے کو معلومات سے سمجھا—مگر ہر مرحلے میں اس کا اصل مقصد ایک ہی رہا: گاہک کی ضرورت کو قابلِ اعتماد انداز سے پورا کرنا۔ اگر وہ رجسٹر ہی کو اپنا کاروبار سمجھ لیتا تو کمپیوٹر آنے پر ختم ہو جاتا۔ اگر وہ گاہک کی ضرورت کو کاروبار سمجھتا ہے تو آلہ بدلنے کے باوجود چل سکتا ہے۔
میرے لیے سسٹمز لمیٹڈ کے 50 سالہ سفر کا سب سے مضبوط جملہ یہی ہے:
کسی ایک آلے سے محبت نہ کریں، سیکھنے سے محبت کریں۔
اور اس کے ساتھ ایک دوسرا جملہ بھی یاد رکھیں:
بڑی کامیابی اکثر ایک بہت بڑے قدم سے نہیں، وقت پر اٹھائے گئے ہزاروں چھوٹے اور ذمہ دار قدموں سے بنتی ہے۔
آج آپ کے پاس 1977 کے مقابلے میں کہیں زیادہ طاقتور اوزار ہیں۔ ممکن ہے آپ کے موبائل میں اُس دور کی بڑی مشین سے زیادہ قوت ہو۔ اصل سوال یہ نہیں کہ آپ کے پاس کون سا آلہ ہے۔ اصل سوال یہ ہے کہ آپ اس سے کس انسان کا کون سا مسئلہ حل کریں گے، اور کیا آپ اتنی دیر سیکھتے رہیں گے کہ وقت بدلنے پر آپ کا سفر ختم ہونے کے بجائے نیا رخ لے سکے؟



