کاروبار

سافٹ ویئر ہاؤس کے 5 بڑے اکاؤنٹنگ مسائل جو خاموشی سے آپ کا منافع کھا رہے ہیں

عاطف شہباز11 اگست 202618 منٹفیس بک پر فالو کریں
سافٹ ویئر ہاؤس کے 5 بڑے اکاؤنٹنگ مسائل جو خاموشی سے آپ کا منافع کھا رہے ہیں

کلائنٹ امریکی ہے۔ ریٹ ڈالروں میں ہے۔ ٹیم رات گئے تک ڈیلیور کر رہی ہے۔

اور پھر بھی مہینے کے آخر میں مالک بیٹھا سوچ رہا ہے: پیسہ آخر گیا کہاں؟

یہ کسی ایک کمپنی کا قصہ نہیں۔ لاہور کے ماڈل ٹاؤن سے کراچی کے شاہراہِ فیصل تک، اور اسلام آباد کے سافٹ ویئر پارکس سے فیصل آباد کے چھوٹے دفتروں تک، یہ منظر ہر جگہ ایک جیسا ہے۔

ڈالر کمانے والی کمپنی تنگی میں کیسے رہ سکتی ہے؟ جواب سن لیں: مسئلہ پیسہ کمانے میں نہیں، پیسہ سنبھالنے میں ہے۔

میں یہ سب اتنے یقین سے کیوں کہہ رہا ہوں؟

میرا نام عاطف شہباز ہے۔ چارٹرڈ اکاؤنٹنٹ ہوں اور تقریباً بیس سال سے کمپنیوں کے کھاتے، آڈٹ اور فنانشل رپورٹنگ کا کام کر رہا ہوں، آڈٹ فرمز سے لے کر ملٹی نیشنل کمپنیوں تک۔

پچھلے تین سال ایک امریکی آئی ٹی کمپنی کا سی ایف او رہا ہوں۔ وی او آئی پی کا بزنس، کلائنٹس امریکہ میں اور بیک آفس پاکستان میں۔ یعنی بالکل وہی ماحول جس میں آپ بیٹھے ہیں: آمدنی ڈالروں میں، خرچے روپوں میں، کالز امریکی ٹائم زون پر، اور تنخواہیں پاکستانی کیلنڈر پر، جہاں عید کا بونس بھی اسی مہینے آتا ہے جس مہینے کلائنٹ کی پیمنٹ لیٹ ہوتی ہے۔

اس سارے عرصے میں ایک بات صاف دیکھی ہے۔ پہلے ہی واضح کر دوں کہ وہ بات یہ نہیں کہ سافٹ ویئر ہاؤس والے اپنے پیسوں سے غافل ہیں۔ بالکل نہیں۔ مالک روز بینک ایپ کھولتا ہے، انوائسز کی ایکسل فائل موجود ہے اور اخراجات کہیں نہ کہیں لکھے جا رہے ہیں۔ ڈیٹا سب موجود ہے۔

مسئلہ صرف یہ ہے کہ سب کچھ بکھرا ہوا ہے۔ ریونیو ایک فائل میں، اخراجات دوسرے رجسٹر میں، سبسکرپشنز کریڈٹ کارڈ کے اسٹیٹمنٹ میں، اور پروجیکٹ پر لگے اصل گھنٹے کسی کے ذہن میں۔

بینک ایپ، ایکسل، رجسٹر، واٹس ایپ اور کریڈٹ کارڈ میں بکھرے مالیاتی ڈیٹا کی تصویر۔

بینک ایپ، ایکسل، رجسٹر، واٹس ایپ اور کریڈٹ کارڈ میں بکھرے مالیاتی ڈیٹا کی تصویر۔

نتیجہ: حساب ہوتا ہے مگر ادھورا۔ رساؤ نظر نہیں آتا اور رپورٹ اتنی دیر سے بنتی ہے کہ جس مہینے کی کہانی سناتی ہے، وہ مہینہ گزر چکا ہوتا ہے۔

اس آرٹیکل میں وہ پانچ مسائل ہیں جو بہت سے سافٹ ویئر ہاؤسز میں عام دیکھنے کو ملتے ہیں۔ ہر مسئلے کی نشانیاں بھی، تاکہ آپ خود تشخیص کرسکیں، اور ہر ایک کا ایسا حل بھی جو آپ اسی ہفتے کسی مہنگے کنسلٹنٹ کے بغیر لاگو کرسکتے ہیں۔

مسئلہ نمبر 1: کے پی آئی ڈیش بورڈ کی غیر موجودگی — لاگز موجود، گرافانا غائب

پچھلے دنوں لاہور میں ایک سافٹ ویئر ہاؤس کے مالک کے ساتھ چائے پر بیٹھا تھا۔ اچھی خاصی کمپنی، پچیس بندے، امریکی اور خلیجی کلائنٹس۔ میں نے پوچھا: “پچھلے مہینے ریونیو کتنی رہی؟” جواب آیا: “تقریباً چالیس، پینتالیس ہزار ڈالر کے قریب ہوگی۔”

میں نے پوچھا: “اور گراس مارجن؟” جواب ملا: “وہ اکاؤنٹس والے صاحب بہتر بتا سکتے ہیں۔” پھر پوچھا: “بینک میں جو رقم ہے وہ کتنے مہینے چل سکتی ہے؟” خاموشی۔

پھر اس نے اپنا لیپ ٹاپ میری طرف گھمایا۔ اسکرین پر سرور مانیٹرنگ کا ڈیش بورڈ چمک رہا تھا: ہر سرور کا سی پی یو، میموری، اپ ٹائم اور ریسپانس ٹائم، سیکنڈ بہ سیکنڈ رنگ برنگے گراف۔ “یہ دیکھیں، ہمارا انفرا اسٹرکچر۔ کہیں کچھ ہو تو منٹ کے اندر الرٹ آ جاتا ہے۔”

مشینوں کا حال سیکنڈوں میں معلوم تھا۔ کمپنی کا حال مہینوں میں بھی نہیں۔

آئی ٹی مانیٹرنگ ڈیش بورڈ اور کمپنی کے مالیاتی ڈیش بورڈ کا تقابلی خاکہ۔

آئی ٹی مانیٹرنگ ڈیش بورڈ اور کمپنی کے مالیاتی ڈیش بورڈ کا تقابلی خاکہ۔

آئی ٹی کی زبان میں مسئلہ یوں سمجھیں: آپ کے پیسوں کے لاگز تو پورے ہیں، یعنی بینک اسٹیٹمنٹ، ایکسل فائلیں اور رجسٹر، مگر ان لاگز پر گرافانا نہیں لگا۔ جب تک کوئی انہیں پارس کرکے ڈیش بورڈ پر نہ لائے، وہ صرف ٹیکسٹ فائلیں ہیں جو مسئلہ ہونے پر کھولی جاتی ہیں، اور تب تک دیر ہوچکی ہوتی ہے۔

حل وہی ہے جو آپ اپنے سرورز کے لیے پہلے ہی کرچکے ہیں: خام ڈیٹا کے اوپر ایک صفحے کا ڈیش بورڈ۔

CHECKLIST

ہر مہینے صرف پانچ نمبر

ریونیو: اس مہینے کل کتنا بل کیا؟

1

گراس مارجن: کمائی میں سے ٹیم کی لاگت نکال کر کیا بچا؟

2

فی ملازم ریونیو: کل کمائی تقسیم ٹیم کے بندے۔ یہ نمبر گرنے لگے تو ٹیم بڑھ رہی ہے، کام نہیں۔

3

ڈی ایس او: انوائس بھیجنے کے بعد پیسہ ملنے میں اوسطاً کتنے دن لگتے ہیں؟

4

کیش رن وے: بینک کی رقم موجودہ خرچوں پر کتنے مہینے چلے گی؟

5

یہ ایک صفحہ ہر مہینے کی 5 تاریخ تک تیار ہونا چاہیے۔

سافٹ ویئر ہاؤس کا ایک صفحے پر مشتمل ماہانہ مالیاتی کے پی آئی ڈیش بورڈ۔

سافٹ ویئر ہاؤس کا ایک صفحے پر مشتمل ماہانہ مالیاتی کے پی آئی ڈیش بورڈ۔

باسی رپورٹ بھی خطرہ ہے

یہی وہ جگہ ہے جہاں اکثر کمپنیاں مار کھاتی ہیں۔ رپورٹ بنتی تو ہے، مگر 15 تاریخ کو، جب عمل کا وقت گزر چکا ہوتا ہے۔ باسی رپورٹ اور نہ ہونے والی رپورٹ میں فرق بہت کم ہے۔

میں یہ مشورہ کتاب پڑھ کر نہیں دے رہا۔ اپنی کمپنی میں مینجمنٹ کے لیے بالکل ایسا ہی ایک صفحہ بنایا تھا جو مہینے کے پہلے ہفتے میں تیار ہوجاتا تھا۔ فرق صرف یہ نہیں پڑا کہ سوالوں کے جواب ملنے لگے، فرق یہ پڑا کہ سوال بدل گئے۔

پہلے سوال ہوتا تھا: “پیسہ کتنا ہے؟” اب سوال ہونے لگا: “وصولی کا وقت پچھلے مہینے سے چار دن کیوں بڑھ گیا؟” یہ دوسرا سوال پہلے والے سے ہزار گنا قیمتی ہے۔

شروعات کے لیے گوگل شیٹ کافی ہے۔ پہلے مہینے دو تین گھنٹے لگیں گے، تیسرے مہینے تک آدھے گھنٹے کا کام رہ جائے گا۔ جس دن یہ ڈیش بورڈ بنے گا، کچھ ایسے نمبر نظر آنا شروع ہوں گے جو برسوں سے چھپے بیٹھے تھے۔ سب سے پہلا نمبر اگلے مسئلے میں چھپا ہے۔

ریونیو، گراس مارجن، فی ملازم ریونیو، ڈی ایس او اور کیش رن وے کے پانچ بنیادی نمبر۔

ریونیو، گراس مارجن، فی ملازم ریونیو، ڈی ایس او اور کیش رن وے کے پانچ بنیادی نمبر۔

مسئلہ نمبر 2: مالی رساؤ — کام پورا ہوا، بلنگ ادھوری رہی

آئیے آج آپ کی کمپنی میں ایک چھوٹی سی تفتیش کرتے ہیں۔ سوال نمبر 1: پچھلے مہینے آپ کی ٹیم نے کل کتنے گھنٹے کام کیا؟ یہ آسان ہے۔ پندرہ بندے، مہینے کے بائیس دن، آٹھ گھنٹے، یعنی تقریباً 2,640 گھنٹے۔

سوال نمبر 2: ان 2,640 میں سے کتنے گھنٹے کلائنٹس کو بل ہوئے؟ اور یہیں پر اکثر مالکان کی تفتیش رک جاتی ہے، کیونکہ جواب کسی کے پاس نہیں ہوتا۔ ان دونوں نمبروں کا فرق ہی رساؤ ہے۔ پروگرامنگ کی دنیا میں اس کا ایک جانا پہچانا نام ہے: میموری لیک۔

میموری لیک والی ایپ فوراً کریش نہیں ہوتی۔ وہ ہفتوں چلتی رہتی ہے، بس آہستہ آہستہ سست ہوتی جاتی ہے، اور پھر ایک دن عین رش کے وقت ڈاؤن۔ آپ کا منافع بھی ایسے ہی لیک ہو رہا ہے۔ کمپنی چل رہی ہے، بس ہر مہینے تھوڑی سست ہو رہی ہے۔

رساؤ کے چار بڑے سوراخ

CHECKLIST

مالی رساؤ کہاں سے ہوتا ہے؟

“چھوٹا سا چینج”: کلائنٹ چھوٹی تبدیلی کہتا ہے، ٹیم دو دن لگاتی ہے، مگر اسکوپ سے باہر کام کا بل نہیں بنتا۔

1

ایس ایل اے سے باہر سپورٹ: معاہدہ ختم ہوچکا مگر پرانے کلائنٹ کی سپورٹ مفت جاری ہے۔

2

میٹنگز اور کالز: کئی افراد کے گھنٹے لگتے ہیں مگر کسی انوائس میں نظر نہیں آتے۔

3

لیٹ انوائسنگ: کام اور ریٹ دونوں طے ہیں، مگر انوائس وقت پر نہیں جاتی۔

4

جس ہفتے کام ڈیلیور ہو، اسی ہفتے انوائس بھی نکلنی چاہیے۔

کام نومبر میں ڈیلیور ہوا، انوائس جنوری میں گئی۔ پوچھو کیوں تو جواب: “بس بھیجنے ہی والے تھے۔” اس تاخیر کی قیمت تین گنا ہے: وصولی مزید لیٹ، پرانے کام کے آئٹمز بھول جانے سے کم بلنگ، اور پرانی انوائس پر کلائنٹ کے نئے سوالات۔

اصول سیدھا ہے: جس ہفتے کام ڈیلیور، اسی ہفتے انوائس۔ جیسے کوڈ شپ ہوتے ہی ریلیز نوٹس جاتے ہیں، بل بھی deployment کا حصہ ہے۔

آئٹمحساب
ضائع گھنٹے فی ڈیویلپرصرف 2 فی ہفتہ
ٹیم10 ڈیویلپرز
مہینے کے ضائع گھنٹے80 گھنٹے
اوسط ریٹ20 ڈالر فی گھنٹہ
ماہانہ رساؤ1,600 ڈالر
سالانہ رساؤ19,200 ڈالر — 50 لاکھ روپے سے زیادہ

ہفتے کے صرف دو گھنٹے فی بندہ، اور سال کے آخر میں ایک نئی گاڑی جتنی رقم غائب۔ یاد رہے، یہ وہ رقم نہیں جو کمانی تھی اور نہیں کمائی۔ یہ وہ رقم ہے جس کی لاگت آپ ادا کرچکے ہیں: تنخواہ پوری گئی، بجلی پوری جلی، بس وصولی نہیں ہوئی۔

CHECKLIST

حل تین قدم

ٹائم ٹریکنگ آن کریں۔ ہر گھنٹہ کسی پروجیکٹ سے جڑا ہو۔ Clockify، Toggl یا Jira، ٹول کوئی بھی چلے گا۔

1

ہر اسکوپ چینج = ٹکٹ = بل ایبل۔ کلائنٹ کا چھوٹا سا چینج پہلے ٹکٹ بنے گا، پھر ہوگا۔

2

انوائسنگ کا ایک مقررہ دن رکھیں، مثلاً ہر جمعہ۔ ڈیلیور ہوچکے ہر کام کی انوائس اسی دن نکلے گی۔

3

ٹائم ٹریکنگ کا مقصد نگرانی نہیں؛ ادا شدہ محنت کو قابلِ بل بنانا ہے۔

پروجیکٹس کے بل ایبل اور نان بل ایبل گھنٹوں کی ہفتہ وار ٹائم رپورٹ۔

پروجیکٹس کے بل ایبل اور نان بل ایبل گھنٹوں کی ہفتہ وار ٹائم رپورٹ۔

مفت کام فیصلہ ہونا چاہیے، حادثہ نہیں

مفت کام کرنا کوئی جرم نہیں۔ کبھی تعلق کے لیے، کبھی مستقبل کے لیے، آپ خود فیصلہ کرتے ہیں۔ مگر مفت کام آپ کا فیصلہ ہونا چاہیے، حادثہ نہیں۔ فیصلے کا ریکارڈ ہوتا ہے، حادثے کا صرف نقصان۔

مسئلہ نمبر 3: وصولی میں تاخیر — انوائس چلی گئی، پیسہ نہیں آیا

اس مسئلے کو سمجھانے کے لیے دس ہزار ڈالر کی ایک انوائس کی ڈائری پڑھیں۔ یہ ایک حقیقی کہانی جیسی ہے، کیونکہ ہر کمپنی میں بار بار دہرائی جاتی ہے۔

CHECKLIST

ایک انوائس کی 75 دن کی ڈائری

دن 1: انوائس بھیج دی۔ دل خوش ہے، اچھا مہینہ جا رہا ہے۔

1

دن 10: کلائنٹ کا جواب: “Received, forwarded to accounts.”

2

دن 30: “It’s in the next payment cycle.” ادھر تنخواہیں، کرایہ، بجلی اور انٹرنیٹ ادا ہوگئے۔

3

دن 45: فالو اپ ای میل نمبر 4، جواب ندارد۔

4

دن 60: عید سر پر، ٹیم بونس کی منتظر، کلائنٹ کی اکاؤنٹس ٹیم چھٹیوں پر۔

5

دن 75: رقم آخرکار آگئی۔

6

ان 75 دنوں میں مالک نے ادھار لیا، سیونگ توڑی اور بجٹ کے اندازے کئی بار بدلے۔

دس ہزار ڈالر کی انوائس وصول ہونے میں 75 دن کی تاخیر کی ٹائم لائن۔

دس ہزار ڈالر کی انوائس وصول ہونے میں 75 دن کی تاخیر کی ٹائم لائن۔

یہ ڈائری پڑھنے میں مزاحیہ لگتی ہے، بس اپنی ہو تو نہیں لگتی۔ آپ کی انوائس دراصل ایک API کال ہے جس کی retry logic کسی نے لکھی ہی نہیں۔ بھیج دی اور بھول گئے: fire and forget۔ ریسپانس آئے نہ آئے، کوئی الرٹ یا فالو اپ شیڈول نہیں۔

دوسری طرف پے رول وہ cron job ہے جو ہر مہینے کی پہلی کو چلتی ہے اور کبھی فیل نہیں ہوتی۔ خرچے خودکار ہیں، وصولی دستی۔ یہ توازن الٹا ہے۔

منافع ایک رائے ہے۔ کیش ایک حقیقت۔ کاغذ پر آپ منافع میں ہیں، حقیقت میں تنخواہ ذاتی جیب سے جا رہی ہے۔

وصولی کی retry logic کیسے لکھی جائے؟

CHECKLIST

وصولی بہتر کرنے کے چار طریقے

ہفتہ وار اے آر ریویو: پندرہ منٹ صرف وصولیوں پر۔ ہر بقایا انوائس، اس کا مرحلہ، ذمہ دار شخص اور آخری فالو اپ سامنے ہو۔

1

مائل اسٹون بلنگ: پورے پروجیکٹ کے آخر کا انتظار نہ کریں۔ ہر اسپرنٹ یا مائل اسٹون پر انوائس بھیجیں۔

2

معاہدے میں واضح ٹرمز: “پیمنٹ 15 دن کے اندر” تحریری طور پر موجود ہو۔

3

نئے کلائنٹ سے ایڈوانس: جو کلائنٹ 20 فیصد ایڈوانس نہیں دے سکتا، وہ 100 فیصد فائنل پیمنٹ کیسے دے گا؟

4

صرف اس عادت سے کہ اب کوئی انوائس بھولتی نہیں، وصولی کے اوسط دن کم ہونے لگتے ہیں۔

تحفہ اور قرض پہچانیں

جو کام ہوا مگر بل نہیں ہوا، وہ آپ کی طرف سے کلائنٹ کو مفت تحفہ ہے۔ جو بل ہوا مگر وصول نہیں ہوا، وہ آپ نے قرض دیا ہوا ہے، اور اس پر آپ کوئی منافع بھی نہیں لے رہے۔

خودکار فالو اپ کے ذریعے انوائس وصولی 75 دن سے 25 دن تک لانے کا خاکہ۔

خودکار فالو اپ کے ذریعے انوائس وصولی 75 دن سے 25 دن تک لانے کا خاکہ۔

مسئلہ نمبر 4: زومبی اخراجات — سبسکرپشنز جو کام نہیں کرتیں مگر تنخواہ لیتی ہیں

یہ سیکشن پڑھنے کا نہیں، کرنے کا ہے۔ ابھی کمپنی کے کریڈٹ کارڈ کا اسٹیٹمنٹ یا ہر مہینے آنے والی رسیدوں کی ای میلز کھولیں۔ ہر recurring کٹوتی پر رک کر پوچھیں: پچھلی بار یہ چیز کب استعمال ہوئی تھی؟ جس کا جواب “یاد نہیں” ہو، اس پر سرخ نشان لگائیں۔ میری پیش گوئی لکھ لیں: کم از کم تین سرخ نشان نکلیں گے۔

لینکس استعمال کرنے والوں کے لیے ان کا ایک مانوس نام ہے: زومبی پروسیسز۔ ps aux چلائیں تو نظر آتے ہیں، کام کوئی نہیں کررہے، میموری پکڑے بیٹھے ہیں اور جس نے شروع کیا تھا وہ kill کرنا بھول گیا۔ فرق بس یہ ہے کہ یہ زومبی ہر مہینے ڈالروں میں تنخواہ لیتے ہیں۔

CHECKLIST

زومبی اخراجات کہاں چھپے ہوتے ہیں؟

ایک ہی کام کے تین ٹولز: ٹیم ایک استعمال کرتی ہے، سبسکرپشن تینوں کی چل رہی ہے۔

1

پرانے پروجیکٹ کا کلاؤڈ سرور: پروجیکٹ ختم، سرور آج بھی بل بھیج رہا ہے۔

2

دس سیٹس والا لائسنس جس کی صرف چار سیٹیں استعمال ہو رہی ہیں۔

3

خاموش آٹو رینیول: سالانہ پلان کی تجدید ہوگئی اور کسی کو خبر تک نہیں۔

4

ایک آڈٹ میں ایسا ٹول ملا جس کی ادائیگی دو سال سے جاری تھی، مگر اسے استعمال کرنے والا ملازم کمپنی چھوڑ چکا تھا۔

سبسکرپشن گویا اس کے جانے کا غم منا رہی تھی، کمپنی کے خرچے پر۔

CHECKLIST

حل: چار عادتیں، کوئی راکٹ سائنس نہیں

ایک رجسٹر: ہر سبسکرپشن کا نام، ماہانہ فیس، رینیول تاریخ، ذمہ دار بندہ اور آخری استعمال لکھیں۔

1

رینیول سے پہلے الرٹ: ہر تاریخ سے ایک ہفتہ پہلے کیلنڈر ریمائنڈر۔ تجدید فیصلے سے ہوگی، خاموشی سے نہیں۔

2

سہ ماہی صفائی: ہر تین مہینے بعد پورا رجسٹر لائن بہ لائن دیکھیں، جیسے dependencies اپ ڈیٹ کرتے ہیں۔

3

کلاؤڈ بلنگ الرٹس: خرچ حد سے اوپر جائے تو خودکار اطلاع، سی پی یو الرٹ کی طرح۔

4

پہلی بار رجسٹر بنانے پر ہی دو تین زومبی خود سامنے آجائیں گے۔

ہر سبسکرپشن کا ایک ذمہ دار ہو

ایک بندہ ایسا ہونا چاہیے جس سے پوچھا جاسکے کہ یہ سبسکرپشن کیوں چل رہی ہے۔ جس خرچے کا کوئی ذمہ دار نہیں ہوتا، وہ کبھی بند نہیں ہوتا۔

مسئلہ نمبر 5: ذاتی اور کاروباری کھاتوں کا ملاپ — کمپنی کا اکاؤنٹ، گھر کا خرچ

آڈٹ کے زمانے کا ایک واقعہ سناتا ہوں۔ ایک کمپنی کے کھاتوں میں دلچسپ اندراجات تھے: بچوں کے اسکول کی فیس، گھر کا راشن، گاڑی کی قسط اور شادی کا کیٹرنگ بل۔ سب “متفرق اخراجات” کے کھاتے میں۔

مالک سے پوچھا تو جواب وہی ملا جو ہمیشہ ملتا ہے: “کمپنی میری ہے، پیسہ میرا ہے، فرق کیا پڑتا ہے؟” اس جملے کی جڑ ابا جی کی دکان والے ماڈل میں ہے۔ دکان کا گلّہ ہی جیب تھا، جیب ہی گلّہ۔ شام کو پیسے نکالے اور گھر کا سودا آگیا۔ دکان پر یہ ماڈل مشکل سے چل جاتا تھا، سافٹ ویئر ہاؤس پر نہیں چلتا۔

سافٹ ویئر ہاؤس صرف دکان نہیں۔ یہاں پندرہ لوگوں کی تنخواہیں، غیر ملکی کلائنٹس کے معاہدے، ایف بی آر کی فائلنگ، اور کل شاید کسی انویسٹر یا بینک کی جانچ بھی ہے۔

اب اسے اپنی زبان میں سنیں۔ آپ production ڈیٹا بیس پر براہِ راست ٹیسٹ کوئری نہیں چلاتے، main برانچ پر direct push نہیں کرتے۔ Dev، staging اور production الگ رکھنا پیشہ ورانہ تربیت کی بنیاد ہے۔ تو پھر کمپنی کا بینک اکاؤنٹ آپ کا ذاتی sandbox کیوں بنا ہوا ہے؟

CHECKLIST

کھاتے ملانے سے تین چیزیں دھندلی ہوجاتی ہیں

منافع: جس کمپنی کے خرچوں میں راشن شامل ہو، اس کا اصل منافع درست نہیں نکل سکتا۔

1

ٹیکس: ایف بی آر کے سامنے غیر کاروباری خرچے مسترد ہوسکتے ہیں اور سوالات پیدا کرتے ہیں۔

2

اعتبار: پارٹنر کے جھگڑے، انویسٹر کے سوال اور کمپنی کی کم valuation اسی ملاپ سے پیدا ہوتے ہیں۔

3

مسئلہ نمبر 1 کا ڈیش بورڈ بھی تب سچ بولے گا جب اس میں صرف کمپنی کا ڈیٹا ہو۔

کمپنی اور ذاتی بینک اکاؤنٹس کو الگ رکھنے اور مالک کی تنخواہ منتقل کرنے کا خاکہ۔

کمپنی اور ذاتی بینک اکاؤنٹس کو الگ رکھنے اور مالک کی تنخواہ منتقل کرنے کا خاکہ۔

CHECKLIST

حل تین اصولوں میں

دو الگ بینک اکاؤنٹس، آج: کمپنی کا اکاؤنٹ کمپنی کا، آپ کا اکاؤنٹ آپ کا۔

1

اپنی تنخواہ مقرر کریں: مالک بھی ملازم ہے۔ ہر مہینے باقی ٹیم کے ساتھ مقررہ تنخواہ ذاتی اکاؤنٹ میں جائے۔

2

زیادہ رقم نکالنی پڑے تو نام دے کر نکالیں: مالک کی drawing یا مالک پر قرض۔

3

ریکارڈ شدہ ٹرانزیکشن مسئلہ نہیں ہوتی؛ بے نام ٹرانزیکشن ہوتی ہے۔

Production Rule

کمپنی کا اکاؤنٹ production ہے، اور production میں ہر تبدیلی کا commit message ہوتا ہے۔ جس ٹرانزیکشن کی وضاحت آپ ایک جملے میں نہ لکھ سکیں، وہ ٹرانزیکشن ہونی ہی نہیں چاہیے۔

دو الگ اکاؤنٹس اور مالک کی طے شدہ تنخواہ کے ذریعے کاروباری اور ذاتی خرچے الگ رکھنے کا حل۔

دو الگ اکاؤنٹس اور مالک کی طے شدہ تنخواہ کے ذریعے کاروباری اور ذاتی خرچے الگ رکھنے کا حل۔

پانچوں مسائل اور ہر ایک کا پہلا قدم

پورا آرٹیکل ایک نظر میں:

#مسئلہپہلا قدم — اسی ہفتے
1کے پی آئی ڈیش بورڈ کی غیر موجودگیگوگل شیٹ میں 5 نمبروں کا صفحہ بنائیں
2مالی رساؤ — ادھوری بلنگ، لیٹ انوائسنگٹائم ٹریکنگ آن کریں، انوائسنگ کا دن مقرر کریں
3وصولی میں تاخیرہر بقایا انوائس کی فہرست بنا کر سب سے پرانی کا پیچھا کریں
4زومبی اخراجاتکریڈٹ کارڈ اسٹیٹمنٹ کھول کر سرخ نشان لگائیں
5ذاتی اور کاروباری کھاتوں کا ملاپاپنی ماہانہ تنخواہ مقرر کریں

اب ایمانداری سے گنیں: پانچ میں سے کتنے مسائل آپ کے ہاں موجود ہیں؟

CHECKLIST

اپنی موجودہ حالت پہچانیں

0 یا 1: مبارک ہو۔ آپ کا فنانس فنکشن زیادہ تر سافٹ ویئر ہاؤسز سے بہتر حالت میں ہے۔

1

2 یا 3: رساؤ جاری ہے۔ نظر نہیں آرہا، مگر ہر مہینے ہو رہا ہے۔

2

4 یا 5: فوری توجہ چاہیے، مگر گھبرانے کی ضرورت نہیں۔ ہر مسئلے کا پہلا قدم اوپر موجود ہے۔

3

کوئی پہلا قدم ایک دن سے زیادہ کا نہیں۔

آخری بات

پاکستان کا سافٹ ویئر ٹیلنٹ دنیا میں کہیں بھی کھڑا ہوسکتا ہے۔ یہ بات میں نے امریکی کلائنٹس کے ساتھ کام کرتے ہوئے روز دیکھی ہے۔ کوڈ ہم عالمی معیار کا لکھتے ہیں۔ کمی صرف ایک ہے: جو ڈسپلن ہم اپنے کوڈ کو دیتے ہیں، وہ اپنے پیسوں کو نہیں دیتے۔

یہ پانچوں مسائل آج اپنے backlog میں tickets بنا کر ڈال دیں۔ اگلا sprint اپنے finance کے نام۔

فنانس کنسلٹینسی کے لیے رابطہ کریں

اگر آپ اپنے سافٹ ویئر ہاؤس کے فنانس ڈیپارٹمنٹ کے لیے کنسلٹینسی حاصل کرنا چاہتے ہیں تو atif@shama.pk پر رابطہ کریں۔

سافٹ ویئر ہاؤس کے پانچ اکاؤنٹنگ مسائل حل کرنے کی تکمیل — شمع.pk

سافٹ ویئر ہاؤس کے پانچ اکاؤنٹنگ مسائل حل کرنے کی تکمیل — شمع.pk

عاطف شہباز

بانی شمع.pk

اپنے کیریئر کے اگلے قدم کے لیے تیار ہیں؟

نوجوانوں کے لیے مکمل کیریئر رہنمائی کورس اردو میں دیکھیں۔

کورس دیکھیں